Tuesday, October 4, 2022

قطری شہزادے کے پاکستان نہ آنے پر جے آئی ٹی نے قطر جانے کی پیشکش قبول کی ، واجد ضیاء

قطری شہزادے کے پاکستان نہ آنے پر جے آئی ٹی نے قطر جانے کی پیشکش قبول کی ، واجد ضیاء
اسلام آباد (92 نیوز) احتساب عدالت میں العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت میں وکیل خواجہ حارث کی جرح پر واجد ضیاء نے کہا قطری شہزادے کے پاکستان آنے سے انکار پر جے آئی ٹی ٹیم نے قطر جانے کی پیشکش قبول کر لی تھی۔ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی۔ خواجہ حارث  کی جرح پر واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ عبداللہ قائد اہلی اور طارق شفیع پارٹنر تھے۔ پروفیشنل لائسنس کی نوٹری پبلک دبئی کورٹ اور پاکستانی قونصل خانے نے بھی تصدیق کی۔ پروفیشنل لائسنس دبئی میونسپلٹی نے جاری کیا تھا۔ واجد ضیا نے کہا کہ لینڈ رینٹ معاہدہ طارق شفیع اور محمد حسین کے نام جاری کیا گیا تھا۔ خواجہ حارث نے اعتراض اٹھایا کہ لینڈ رینٹ ترجمہ کے چار صفات ہے مگر آپ نے ایک صفہ جے آئی ٹی رپورٹ میں لگایا جس پر واجد ضیا نے کہا کہ غلطی سے ایسا ہوا ہو گا۔ جے آئی ٹی نے اس دستاویز کی تصدیق کیلئے کوئی ایم ایل اے نہیں بھیجا۔ نہ ہی جے آئی ٹی ارکان دبئی گئے۔ قطری شہزادے حمد بن جاسم کے خطوط کے حوالے سے واجد ضیا نے کہا کہ قطری شہزادے نے جے آئی ٹی کو خط کے ذریعے اپنے گزشتہ دو خطوط کی تصدیق کی۔ قطری شہزادے نے پہلے سوال نامہ بھی مانگا تھا جے آئی ٹی نے فیصلہ کیا کہ کسی گواہ کو سوالنامہ نہیں بھجوایا جائے گا۔ خواجہ حارث نے پوچھا کہ نواز شریف سے پہلے آپ کتنے گواہوں کو سمن جاری کیے جس پر واجد ضیا نے بتایا کہ اس سے پہلے 7 یا 8 گواہوں کوبلا چکے تھے ۔ دوران سماعت  نواز شریف نے العزیز یہ ریفرنس میں سات روز کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کر دی۔ جرح ابھی جاری تھی کہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔