Tuesday, December 7, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

قصور: زینب سمیت 8 بچیوں کے قاتل کی گرفتاری ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوئی

قصور: زینب سمیت 8 بچیوں کے قاتل کی گرفتاری ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوئی
January 25, 2018

قصور (92 نیوز) قصور میں زینب اور سات دوسری بچیوں کے قاتل کی گرفتاری ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوئی ۔ پولیس نے گیارہ سو سے زائد افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا ۔
ڈی این اے کسی فرد کی شناخت کا انتہائی جدید طریقہ ہے اور دنیا بھر میں کسی دو انسانوں کا ڈی این اے ایک نہیں ہو سکتا ۔
ڈی این اے کسی مکان کے نقشے کی طرح ہوتا ہے جس پر پورا ڈھانچہ تعمیر کیا جاتا ہے ۔
جیسے ہر مکان کی تعمیر کا نقشہ الگ ہوتا ہے، اسی طرح ہر انسان کے جسم کی تعمیر کیلئے بھی الگ الگ نقشے ہوتے ہیں ۔
جسم کا نظام چلانے کے لیے ڈی این اے کی ہدایات ایک خاص زبان میں درج ہوتی ہیں جس کے حروفِ تہجی صرف چار ہوتے ہیں اور انہیں عام طور پر رومن حروف اے۔۔ سی۔۔ جی اور ٹی۔۔ کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔
ایک انسان کا مجموعی ڈی این اے جسے جینوم کہا جاتا ہے وہ تقریبا تین ارب الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے ۔
ہر انسان کے ڈی این اے کی ترتیب دوسرے سے الگ ہوتی ہے اور اس کے ڈی این کا نمونہ اس کے بالوں، تھوک، جنسی رطوبت، خون یا جلد کے کسی ٹکڑے سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
قصور میں بچیوں سے زیادتی کے واقعات کے بعد پولیس نے متاثرہ بچیوں کے جسم سے ملنے والے ملزم کے ڈی این اے کا نمونہ حاصل کر رکھا تھا۔
اس نمونے کا جب لیب میں ملزم علی عمران کے ڈی این اے سے تقابل کیا گیا تو یہ میچ کر گیا جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ۔