Tuesday, October 4, 2022

قبائلی اضلاع میں تھری جی ، فورجی سروس کی عدم فراہمی پر سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب

قبائلی اضلاع میں تھری جی ، فورجی سروس کی عدم فراہمی پر سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب
 اسلام آباد (92 نیوز) لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز کے معاملے پر قبائلی اضلاع میں تھری جی اور فور جی سروسز کی عدم فراہمی پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ سے جواب طلب کر لیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔ وکیل نے انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے باعث ہزاروں طالب علموں کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔ دوران سماعت وزارت آئی ٹی کے نمائندے نے ذمہ داری وزارت داخلہ پر ڈال دی اور کہا کہ وزارت داخلہ نے 2016 میں انٹرنیٹ پر پابندی لگائی تھی، جواب بھی وہی دے سکتے ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ کسی علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ آرمی کی قربانیوں کی وجہ سے قبائلی اضلاع میں امن ممکن ہوا ہے۔ اگر اسلام آباد میں کچھ ایسا ہو تو کیا یہاں بھی انٹرنیٹ بند کر دیا جائے گا۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حثیت میں طلب کر لیا اور قرار دیا کہ عدالت کو بتائیں کہ قبائلی اضلاع کو انٹرنیٹ کی سہولت سے کیوں محروم رکھا گیا؟ کیس کی سماعت 28 اپریل کو دوبارہ ہو گی۔ عدالت نے بیرون ملک سے واپس پاکستان کا سفر کرنے کیلئے کورونا ٹیسٹ رپورٹ لازم قرار دینے کیخلاف بھی درخواست نمٹا دی۔ حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سفر سے پہلے کورونا ٹیسٹ رپورٹ لازم ہونے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔