Wednesday, September 28, 2022

قابل اعتراض مواد پر یوٹیوب کی پاکستان میں بندش کے عندیہ سے نئی بحث چھڑ گئی

قابل اعتراض مواد پر یوٹیوب کی پاکستان میں بندش کے عندیہ سے نئی بحث چھڑ گئی
اسلام آباد (92 نیوز) قابل اعتراض مواد پر یوٹیوب کو پاکستان میں بند کرنے کے عندیہ نے ایک نئی بحث چھڑ دی۔ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ ایک مرتبہ پھر زور پکڑنے لگا۔ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 7 کروڑ 63 لاکھ 80 ہزار کے قریب صرف 17 فیصد افراد ایسے جن کو انٹرنیٹ کی سہولت مسیر نہیں جبکہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 3 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی۔ ڈیٹا پورٹل کے مطابق، پاکستان میں پہلے نمبر پر فیس بک، دوسرے پر یوٹیوب اور پھر واٹس ایپ استعمال کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا، آزادی اظہار کی دو دھاری تلوار کو ریگولیٹ کرنے کی پہلی کوشش ن لیگ کے دور میں کی گئی لیکن کامیاب نہ ہوسکی۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا ارادہ باندھا، رواں سال کے شروع میں نئے قوانین وضع کیے جن کے تحت قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ ادارے کو قابل اعتراض مواد پر کارروائی کا اختیار بھی حاصل ہو گیا۔ نئے قواعد کے تحت رابطے کی تمام سماجی ویب سائٹس کو چھ ماہ میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اپنا دفتر قائم کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں رابطہ افسر بھی تعینات کرنا ہو گا۔ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کو ایک سال میں پاکستان میں اپنے ڈیٹا سرورز بھی بنانا ہوں گے۔ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں، بشمول میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی، پاکستان پریس فاؤنڈیشن، گلوبل نیبرہوڈ فار میڈیا انوویشن، سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشییٹوز سمیت دیگر اداروں نے بھی سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی شدید مخالفت کی۔ پاکستان نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع رکھا ہے جسکا نتیجہ ابھی انا باقی ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں سوشل میڈیا کمپنیاں ان قوانین کو نہیں مانیں گی۔