Sunday, October 2, 2022

فیفا میں کرپشن سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد 1998اور2010کے ورلڈ کپ بھی  تحقیقات کی زد میں آگئے

فیفا میں کرپشن سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد 1998اور2010کے ورلڈ کپ بھی  تحقیقات کی زد میں آگئے
زیورخ(سپورٹس ڈیسک)فیفا میں کرپشن اسکینڈل سامنے آنے کے بعد  انیس سو اٹھانوے اور دو ہزار دس کے فٹبال ورلڈ کپ بھی تحقیقات کی زد میں آ گئے،  امریکی میڈیا فیفا کے سابق عہدیدار کابیان  منظر عام پر لے آیا،جس میں اقرار کیا گیا ہےکہ ان دو میگا ایونٹس کی میزبانی  دینے کے لئے رشوت لی گئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق  وسطی و شمالی امریکی فٹبال کنفیڈریشن کے سابق سربراہ چک بلیزر کا دو ہزار تیرہ میں عدالت کو دیا گیا اعترافی بیان پہلی بار منظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے رشوت لینے کا جرم قبول کیا تھا۔ انیس سو اٹھانوے کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی فرانس کو دی گئی تھی جبکہ دو ہزار دس کے میگا ایونٹ کا میزبان جنوبی افریقاتھا۔ جنوبی افریقا فٹبال فیڈریشن نے ایک روز قبل ہی ان خبروں کی تردید کی تھی کہ اس نے ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے کے لئے رشوت دی  تھی۔ کرپشن اسکینڈل کے اہم کردار فیفا کے سابق نائب صدر اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو فٹبال فیڈریشن کے سربراہ جیک وارنر نے کہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، جیک وارنر نے فیفا میں ہونے والی کرپشن کا بھانڈا پھوڑنے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ جیک وارنر ان چھے عہدیداروں میں شامل ہیں جنہیں گزشتہ ماہ کرپشن اسکینڈل سامنے آنے پر گرفتار کیا گیا تھا، وہ ان دنوں ضمانت پر رہا ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ فیفا کی صدارت سے مستعفی ہونے والے سیپ بلاٹر کے گرد بھی گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور ایف بی آئی نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔