Friday, September 30, 2022

فیض آباد دھرنا ، سپریم کورٹ کا خفیہ اداروں کی سربمہر رپورٹ پر عدم اطمینان

فیض آباد دھرنا ، سپریم کورٹ کا خفیہ اداروں کی سربمہر رپورٹ پر عدم اطمینان

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق خفیہ اداروں کی سربمہر رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔ سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا دھرنے کے دوران کوئی ہلاکت ہوئی ۔ ٹی وی والے بتا رہے ہیں کہ 6 اموات ہوئیں ۔ کیا پاکستان اب اسلامی نظریے پر چلے گا؟ ۔ سمجھایا جائے کیا یہ اسلام ہے ؟ ۔
فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے آئی ایس آئی اور آبی کی رپورٹیں مسترد کر دیں ۔ فاضل جج صاحبان نے دوران سماعت سخت ریمارکس دیئے اور کئی سوالات بھی اُٹھائے ۔
ازخود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی ۔ اوراپنے گزشتہ سماعت کو جاری کئے گئے حکم کے بارے میں پوچھا تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئی ایس آئی اور آئی بی کی سربمہر رپورٹ جمع کرادی گئی ہے ۔ جس پر جسٹس فائز عیسی نے کئی سوالات اٹھا دیئے ۔ عدالت کو بتایا جائے دھرنے پر کتنا سرکاری خرچہ آیا۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ 27 مقدمات کا اندراج ہوا۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا توپھر میڈیا اس ایشو کو کیوں اٹھا رہا ہے ۔ کیا اسلام کی بات مشکل اور نفرت کی بات کرنا آسان ہے ۔ کیا میڈیا پر اشتعال دلانے کے لیے لوگوں کو بلایا جاتا ہے ۔
سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر میڈیا اپنا قبلہ درست نہیں کرتا تو ہم دیکھ لیں گے ۔ عدالتی حکم میں میڈیا سے متعلق آبزرویشن دیں گے ۔ ہوسکتا ہے ہمارا کوئی حکم میڈیا پر اثرانداز ہو ۔ جسے اعتراض ہو آکر اپنا موقف دے انہیں سماعت کا پورا موقع دیں گے۔ مستقبل میں اگر کوئی حکم دیاگیا تو میڈیا یہ نہ کہے کہ ہمیں سنا نہیں گیا۔
عدالت نے دوران سماعت قربانیوں کے نتیجے میں ملنے والی آزادی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ۔ عدالت کا کہنا تھا آزادی کی قیمت روہنگیا مسلمانوں سے پوچھی جائے ۔ مفت میں ملی آزادی کو تباہ نہیں ہونا چاہیے۔
عدالت نے خفیہ اداروں کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر دھرنے کے حوالے سے نئی رپورٹس طلب کر لیں