Wednesday, September 28, 2022

فیض آباد دھرنا ختم ، شرکا واپس جانے لگے

فیض آباد دھرنا ختم ، شرکا واپس جانے لگے

اسلام آباد ( 92 نیوز ) فیض آباد دھرنا 22 روز بعد ختم ہو گیا اور شرکا بوریا بستر لپیٹ کر واپس جانے لگے ۔ جڑواں شہروں میں 22 روزسے معطل کاروبار زندگی بحال ہو گئی ۔ اسلام آباد کی سڑکیں عام شہریوں کیلئے کھول دی گئیں جبکہ میٹرو بسیں بھی چل پڑیں ۔ 92نواز نے راجہ ظفر الحق رپورٹ بھی حاصل کر لی ۔
حکومت اور دھرنا قائدین کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد 22 روز سے جاری دھرنا ختم کردیا گیا ہےاور شرکا نے اپنا سازوسامان سیمٹ کر واپس جانا شروع کردیا ہے ۔ تاہم تحریک لبیک کے قلیل تعداد موجود ہونے کے باعث دھرنا کو ایک سڑک تک محدود کردیا گیا ہے۔
فیض آباد کے اطراف میں کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں سے اٹی سڑکیں ٹریفک کے لئے کھول دی گئی ہیں ۔ فیض آباد ایکسپریس وے کو ٹریفک کیلئے کھول دیا ہے ۔
زیرو پوائنٹ سے شکرپڑیاں اور شکرپڑیاں سے کھنہ پل تک ٹریفک بحال ہوگئی ہے ۔ فیض آباد مری روڈ سے راول ڈیم جانے والی شاہراہ تا حال بند ہے ۔
شرکا کے جانے کےبعد اسے بھی کھول دیا جائےگا ۔ دھرنا کی وجہ سے 22 روز سے معطل میٹرو بس سروس بحال کردی گئی ہے۔۔
دھرنا شرکا کی واپسی کے ساتھ ہی فیض آباد میں مارکیٹیں کھلنا شروع ہوگئی ہیں اورکاروبار زندگی معمول پرآنا شروع ہوگیا ہے۔۔ دوسری جانب سینیٹری ورکرز نے دھرنا کے مقام کی صفائی بھی شروع کردی ہے ۔
ختم نبوت کے حلف نامہ میں تبدیلی کے حوالے سے راجہ ظفرالحق کی رپورٹ میں کسی بھی شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ۔ تحقیقاتی کمیٹی نے مختلف لوگوں کے انٹرویوز بھی کئے ۔ کمیٹی میں راجہ ظفرالحق ،احسن اقبال اور مشاہد اللہ شامل تھے ۔ راجہ ظفرالحق کی رپورٹ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ مبہم ہے۔