Friday, February 23, 2024

فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں تک کیلئے ملتوی

فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں تک کیلئے ملتوی
March 19, 2018

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سپریم کورٹ میں فیض آباد ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی ۔علامہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کیخلاف حتمی چالان پیش نہ کیا جاسکا۔ عدالت نے خفیہ ادارے کی رپورٹ غیرتسلی بخش اور نامکمل قراردیتے ہوئے سماعت دو  ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ۔

سپریم کورٹ فیض آباد ازخودنوٹس کیس کی سماعت  جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے کی ، عدالت نے حساس ادارے  کی رپورٹ کو غیرتسلی بخش اور نامکمل قرار دیدیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  نے استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل آفس  حساس ادارے سے مطمئن ہے ۔  خفیہ ادارے کو تو معلوم ہی نہیں کون کون ہے  ؟۔بتائیں خادم رضوی کی گزربسر کیسے ہورہی ہے ۔

 ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نےعدالت کوبتایا کہ خادم رضوی پیشے کے اعتبار سے خطیب ہے ۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا کہ کیاخطیب کی کوئی تنخواہ ہوتی ہے ؟۔ خادم رضوی ٹیکس دیتاہے یانہیں، اسکاروزگارکیاہے ؟۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیئے کہ ملک کی سب سے بڑی ایجنسی کی معلومات جان کر تشویش ہوئی ہے ۔ کیاکسی کوریاست پاکستان کاکوئی خیال ہے  ، وزارت دفاع بھی ہماری طرح عوام کوجوابدہ ہے ۔ ہم توخفیہ بریفنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔

وزارت دفاع کے نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ خادم رضوی چندا وصول کرتے ہیں  ، جس پر جسٹس قاضی کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع کی باتیں سن کراب ملک کے مستقبل کے لیے فکرمند ہیں۔ اربوں کی جائیداد کوآگ لگادی گئی ۔

سپریم کورٹ نے پیمراکی جانب سے رپورٹ نہ آنے پر برہمی کا اظہار کیا اور پیمرا کو 10 روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

عدالت نے آئی بی کی جانب سے رپورٹ براہ راست جمع کرانے پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے اٹارنی جنرل آفس سے سوشل میڈیاپرانتہاپسندی روکنے کے حوالے سے اقدامات پربھی رپورٹ طلب کرلی اور  کیس  کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی گئی۔

دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت میں فیض آباد دھرنا سے متعلق کیس کی سماعت خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کیخلاف حتمی چالان پیش نہ کیا جاسکا ۔

عدالت نے پولیس کو 4اپریل تک  حتمی چالان پیش کرنے کا حکم دیدیا۔