Monday, September 26, 2022

فیصل آباد کے سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی میں تعطل

فیصل آباد کے سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی میں تعطل
فیصل آباد ( 92 نیوز) فیصل آباد کے سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی میں  رکاوٹیں کھڑی ہونے  ہونے لگیں ،  پنجاب حکومت کی نا اہلی کے باعث بجٹ تواتر سے جاری نہ ہونے پر اسپتال انتظامیہ کے لئے ادویات خریدنا مشکل ہو گیا جس کا خمیازہ  غریب مریضوں اور ان کے لواحقین کو  بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ ایک جانب حکومت صحت انصاف کارڈ پروگرام  کا اجرا کر چکی ہے جب کہ دوسری جانب پاکستان کا مانچسٹر کہلائے جانے والے فیصل آباد کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کا بجٹ  تسلسل سے نہیں دیا جا رہا ، پہلے سالانہ بجٹ کو سہ ماہی میں تبدیل کیا مگراب وہ بھی تواتر سے جاری نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث اسپتالوں کی انتظامیہ کے لیے ایمرجنسی، ان ڈور اور آؤٹ ڈورمیں آنے والے مریضوں کے لیے ادویات پوری کرنا کٹھن امتحان بن گیا ہے۔ فیصل آباد ڈویژن کے سب سے بڑے الائیڈ اسپتال کا مختص بجٹ 20 کروڑ روپے  سہ ماہی بجٹ ہے مگر وہ بھی چھوٹی چھوٹی اقساط میں جاری کیا جا رہا ہے جس کے باعث  مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ادھر ایشیاء کا سب سے بڑا زیرتعمیرچلڈرن اسپتال  13 کروڑ80 لاکھ، کارڈیالوجی اسپتال کے 80 کروڑ، جنرل اسپتال غلام محمد آباد کے 25 کروڑ 50 لاکھ روپے کے اجراء کی کہانی بھی قطعی مختلف نہیں ،ادویات کی قلت پرشہری بھی حکومت کےخلاف پھٹ پڑے۔ صحت اور تعلیم کو اولین ترجیح کہنے والی حکومت کے دعوؤں اور عملی اقدامات میں کھلا تصاد واضح ہو رہاہے ۔ ادویات کی عدم دستیابی سے اسپتالوں میں زیر علاج مریض یہ التجا کر رہے ہیں ۔