Friday, October 7, 2022

فیصل آباد: پاور لومز کی ڈوبتی کشتی کو دھرنے اور احتجاج بھی سہارا نہ دے سکے

فیصل آباد: پاور لومز کی ڈوبتی کشتی کو دھرنے اور احتجاج بھی سہارا نہ دے سکے

فیصل آباد (92 نیوز) فیصل آباد میں پاور لومز کی ڈوبتی کشتی کو مالکان کے دھرنے اور مزدوروں کے احتجاج بھی سہارا نہ دے سکے۔ صنعتی شہر میں پاور لومز سیکٹر آخری سانسیں لینے لگا۔ حکومت نے پاور لومز سے ایسی نظریں پھیریں کہ ریلیف دینے کے بجائے نئے ٹیکسز کی بھر مار کر دی۔
صنعتوں کے ہزاروں یونٹس کے باعث ملک کا مانچسٹر کہلانے والے فیصل آباد کو حکومتی نظر اندازی نے کنگال کر دیا۔ کپڑا سازی کی بڑی صنعت پاور لومز، بحرانوں میں گری آخری سانسیں لے رہی ہے۔ بد ترین صور تحال پر پاور لومز مالکان کے دھرنے اور درجنوں احتجاج بھی کسی کام نہ آ سکے۔
شہر میں 50 ہزار سے زائد پاور لومز بند ہو چکیں جبکہ چلنے والے گنے چنے یونٹس کا حال بھی کچھ اچھا نہیں۔
پاور لومز بند ہونے سے لاکھوں مزدور بے روز گار ہو کر سڑکوں پر آ گئے۔ مالکان اور مزدوروں کے درمیان اجرتوں اور دیگر مطالبات کے تنازعے نے بھی صنعتی سیکٹر کو بری طرح متاثر کیا۔
دھاگے، صنعتی مصنوعات، بجلی اور گیس پر لگے ٹیکسز نے پاور لومز مالکان کو دیوالیہ کر دیا۔
حکومت کے بلند و بانگ دعووں کے بر عکس پاور لومز سیکٹر کی صورتحال قابل رحم ہو چکی ہے جبکہ حالات پر قابو پانے اور ان میں بہتری کی کوئی صورت دیکھائی نہیں دے رہی۔
پاور لومز بحران کے باعث مالکان میں مشینیں کوڑیوں کے مول بیچ کر کاروبار تبدیل کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔