Thursday, December 1, 2022

فیصل آباد میں بھی پولیس نے قانون کی دھجیاں بکھیر دیں، پندرہ سالہ طالبعلم پولیس فائرنگ کا نشانہ بن گیا

فیصل آباد میں بھی پولیس نے قانون کی دھجیاں بکھیر دیں، پندرہ سالہ طالبعلم پولیس فائرنگ کا نشانہ بن گیا
فیصل آباد (نائنٹی ٹو نیوز) صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے شہر فیصل آباد میں بھی پولیس نے قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔ پولیس نے سڑک کے کنارے تصویریں بناتے میٹرک کے دو نوجوانوں کو بغیر کسی وارننگ کے گولیاں مار دیں۔ ایک نوجوان ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ پولیس گردی کا نشانہ بننے والے دو نوجوان تھانہ پیپلزکالونی کے علاقے آفیسر کالونی کے قریب سڑک کنارے نقلی پستول کے ساتھ تصویریں بنا رہے تھے۔ سادہ لباس میں پہنچنے والے پولیس اہلکاروں نے دونوں کو وارننگ دی نہ پکڑنے کی کوشش کی اور ان پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ ایک گولی چودہ سالہ فہد کو چھو کر گزر گئی مگر پندرہ سالہ فرحان فائرنگ سے شدید زخمی ہو گیا جو بعدازاں ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ پولیس کے شیرجوانوں نے واقعہ کو مقابلہ قرار دے دیا اور کہا کہ وہ تو راہگیروں کو لوٹنے کی اطلاع پر وہاں پہنچے اور انہیں دیکھتے ہی فرحان نے فائرنگ کر دی۔ جوابی فائرنگ میں ایک ڈاکو زخمی ہوا، دوسرا فرار ہو گیا۔ فرحان کے لواحقین نے تصویریں بنانے والا نقلی پستول میڈیا کو دکھا دیا جبکہ پولیس ان سے اصلی پستول برآمد کرنے کا دعویٰ کرتی رہی مگر دکھا نہ سکی۔ پنجاب میں پولیس کی بغیر تصدیق فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ چند روز قبل راولپنڈی میں بھی پولیس کی فائرنگ سے دو بھائی جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ ڈسکہ میں ایس ایچ او کے ہاتھوں دو وکلا کے قتل پر ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا۔