Sunday, December 4, 2022

فیس بک تعاون نہیں کرتی تو بند کردیں:جسٹس شوکت عزیز صدیقی

فیس بک تعاون نہیں کرتی تو بند کردیں:جسٹس شوکت عزیز صدیقی
اسلام آباد (92 نیوز) سوشل میڈیا کو بند کرنا ہے یا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ اگلی سماعت پر فیصلہ کریگی۔ گستاخانہ مواد کی تشہیر کے کیس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ریفرنڈم کرالیں لوگوں کو سوشل میڈیا چاہئے یا ناموس رسالت۔ فیس بک توہین آمیز مواد نہیں ہٹاتی تو سائٹ کوبند کردیں۔ سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی گستاخی کے کیس کی سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی۔ دوران سماعت سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ 3 مشتبہ افراد کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ کچھ افراد کے نام ای سی ایل میں بھی شامل کردیئے ہیں۔ فیس بک انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں، انہوں نے وقت مانگا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ وقت دینا ہے تو دیدیں تاہم اس وقت تک فیس بک کو بند کرنے کی ضرور ت ہے۔ سیلفی والا سوشل میڈیا نہیں چاہیے۔ اگر نظریاتی سرحد کو نقصان پہنچا تو پھر جغرافیائی سرحد کی حفاظت کا فائدہ نہیں رہے گا۔ بھارت میں ”راما کرشنا“کے بارے میں کچھ چلا کر دکھائیں۔ پیسہ بھی ہم سے کمایا جارہا ہے اور جوتیاں بھی ہمیں ہی ماررہے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ اس معاملے سے توجہ ہٹانے کے لئے کرکٹرز کا معاملہ اٹھایا گیا۔ کیا یہ آج سے ہورہا ہے۔ گلی، محلوں سے آنے والے بچوں سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ باسٹھ تریسٹھ پر پورا اتریں۔ کرکٹ ہمارا مذہب نہیں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر فیصلہ کیا جائیگا کہ آیا سوشل میڈیا کو پاکستان میں بند کرنا ہے یا نہیں۔ عدالت نے پی ٹی اے کو تازہ ترین رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 27 مارچ تک ملتوی کر دی۔