Wednesday, November 30, 2022

فوری لاک ڈاؤن کیا جائے، کورونا چیلنج کا بھرپور مقابلہ کرینگے، شہبازشریف

فوری لاک ڈاؤن کیا جائے، کورونا چیلنج کا بھرپور مقابلہ کرینگے، شہبازشریف
لاہور (92 نیوز) اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے تمام سیاسی اکابرین نے مطالبہ کیا کہ فوری لاک ڈاؤن کی جانب جانا چاہئے۔ کورونا چیلنج کا بھرپور مقابلہ کرینگے اور اس مسئلے سے نکل جائیں گے۔ شہبازشریف نے پریس کانفرنس کرتے کہا کہ وہ پاکستانی عوام کیلئے دعاگو ہیں، موجودہ صورتحال اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر سیاست کرنا بڑا گناہ ہوگا۔ موجودہ حالات میں قطعاً ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے معاشرے میں تقسیم بڑھے۔ وقت کا تقاضا ہے ہم اس چیلنج کو موقعے میں تبدیل کرکے ایک قوم بن جائیں۔ ذاتی انا اور پسند ناپسند سے نکل کر متحد ہوجائیں اور آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے جیلوں کے اندر کورونا کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائے، پنجاب حکومت نے گزشتہ روز لاک ڈاؤن کا اعلان کیا، دیر آئے درست آئے۔ انہوں نے کہا کہ تفتان میں زائرین کیلئے انتظامات نہ کرنے کی سنگین غلطی سامنے آئی، تفتان میں بھیڑ بکریوں کی طرح لوگوں کو رکھا گیا، اپوزیشن لیڈربہتر انتظامات ہوتے تو پاکستان میں وائرس کا ایسا شدید حملہ نہ ہوتا۔ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کورونا کی تاحال کوئی دوا نہیں، بس احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا، اپوزیشن لیڈرتمام پارٹی ورکر اور عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔ شہبازشریف بولے کہ چاروں وزرائے اعلیٰ شراکت داری کےساتھ لائحہ عمل طے کریں، نیشنل ٹاسک فورس میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے۔ حکومت فی الفور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرے۔ انہوں نے کہا کہ جہازوں کو ان ممالک میں بھیجا جائے جہاں سے طبی آلات مل سکتے ہیں، وینٹی لیٹرز اور سیفٹی کٹس سمیت تمام مطلوبہ آلات درآمد کئے جائیں، پارٹی کی جانب سے 10ہزار حفاظتی کٹس فراہم کرینگے، قرنطینہ سنٹرز کو شہروں سے باہر منتقل کیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ عوام کو کورونا ٹیسٹ کی سہولت مفت فراہم کی جائے، صاحب حیثیت اور امیر آدمی اس مشکل وقت میں سامنے آئیں، غریبوں کے ٹیسٹ مفت کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے، بے روزگار ہونے والوں کو گھروں تک امداد اور راشن فراہم کی جائے۔ شہبازشریف نے مزید کہا کہ کورونا ٹیسٹ، آلات، ادویات، خوراک کیلئے فوری فنڈز مختص کئے جائیں، وائرس کو شکست دینے کیلئے وسائل عوام کےقدموں میں نچھاور کئے جائیں، شرح سود 3 سے 4 فیصد تک  کم کیا جائے۔