Wednesday, December 7, 2022

فورتھ شیڈول میں شامل  رہنماؤں  کے 2021 بنک اکاؤنٹس منجمد

فورتھ شیڈول میں شامل  رہنماؤں  کے 2021 بنک اکاؤنٹس منجمد
کراچی(92نیوز)حکومت نے فرقہ وارانہ مذہبی جماعتوں کے 2021 افراد کے بنک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے بنک اکاؤنٹ منجمند ہونے والے مذہبی رہنماء فورتھ شیڈیول میں شامل ہیں ۔مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے اکاؤنٹس دہشتگردی میں استعمال کے شبعے میں بند کئے گئے۔ تفصیلات کےمطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے دہشت گردی کے شبے میں ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے رہنماوں کے بین اکاونٹس مجنمند کردیئے ہیں۔ مرکزی بینک نے پنجاب سے 1443 , سندھ سے 226 کلعدم مذہبی رہنماؤں کے بنک اکاؤنٹس منجمد کئے جب کہ بلوچستان سے 193 , گلگت بلتستان سے 106 ، آزاد کشمیر سے 26 ، وفاقی دارالحکومت سے 27 رہنماء اکائونٹس منجمد ہونے والوں میں شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر دہشت گردی سے سب سے متاثرہ پختونخوا سے کسی کا بنک اکاؤنٹ منجمد نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کلعدم اہلسنت والجماعت کے اورنگزیب فاروقی , مولانا احمد لدھیانوی ، لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز، مجلس وحدت المسلمین کے علامیہ امین شہیدی,  مقصود ڈومکی, نیئر عباس اور کلعدم تحریک جعفریہ کے شیخ محسن نجفی کے اکاؤنٹس بھی منجمد کیے گئے ہیں۔ نیکٹا نے کچھ عرصہ قبل اسٹیٹ بینک کو شیڈول فورتھ میں موجود کالعدم تنظیموں کے بینک اکاونٹس منجمند کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک کو شیڈول4 میں شامل افراد کے نام اورشناختی کارڈزکی فہرستیں دی گئی تھیں، اسٹیٹ بینک نےنجی بینکوں کو 15 روز قبل ہدایات جاری کیں تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شیڈول4 میں شامل افراد کی فہرستیں ضلعوں کی سطح پرحال ہی میں اپ ڈیٹ کی گئی ہیں حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے کالعدم تنظیموں کے بینک اکاونٹس منجمد ہونے سے دہشت گردوں کی مالی معاونت بند ہوسکتی ہے جس سے حکومت کو دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔