Tuesday, November 29, 2022

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا معاملہ لٹک گیا ،اپوزیشن اور حکومت میں اتفاق نہ ہوسکا

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا معاملہ لٹک گیا ،اپوزیشن اور حکومت میں اتفاق نہ ہوسکا
اسلام آباد(92نیوز)فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا معاملہ لٹک گیا حکومت اور اپوزیشن میں ا تفاق نہ ہوسکا خورشید شاہ کہتے ہیں حکومت کا موقف پارٹی قیادت کے سامنے رکھیں گے۔شاہ محمود قریشی  کہتے ہیں  حکومت کب تک ملٹری کورٹ کے سہارے چلے گی۔ تفصیلات کےمطابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماﺅں کا اجلاس ہوا جس میں فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر مشاورت کی گئی۔تاہم توسیع پر ا تفاق نہیں ہوسکا 17جنوری کو معاملے پر دوبارہ غور کیا جائیگا اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایاز صادق کاکہنا تھا کہ مشاورت کے ساتھ قانون سازی پر کھل کر بات ہوئی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ججوں گواہوں کے تحفظ کے حوالے سے قوانین آپریشن ضرب عضب اور نیشنل سکیورٹی کے قیام پر حکومت سے بریفنگ مانگی ہے فوجی عدالتوں پر موقف سن لیا قیادت کو آگاہ کردینگے۔ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں حکومت کے سامنے 7مطالبات رکھے ہیں بتایا جائے حکومت کب تک ملٹری کورٹ کے سہارے چلے گی حکومت کے موقف میں ابہام ہے وہ اس معاملے پر اندر سے تقسیم ہے۔ پارلیمنٹ ہاﺅس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی صدارت میں اپوزیشن جماعتوں کا بھی اجلاس ہوا اجلاس میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی طرف سے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت کی گئی۔۔