Wednesday, November 30, 2022

فلیگ شپ ریفرنس ، خواجہ حارث کی نوازشریف کے بیان کیلئے سوالنامہ فراہم کرنے کی استدعا

فلیگ شپ ریفرنس ، خواجہ حارث کی نوازشریف کے بیان کیلئے سوالنامہ فراہم کرنے کی استدعا
اسلام آباد (92 نیوز) فلیگ شپ ریفرنس میں خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی کہ ضابطہ فواجداری کی دفعہ 342 کے تحت نواز شریف کا بیان ریکارڈ کرنے  کے لیے پیشگی سوالنامہ فراہم کیا جائے۔ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف بطور ملزم احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے روبرو پیش ہوئے۔ وکیل صفائی خواجہ حارث کی تفتیشی افسر محمد کامران پر آج بھی جرح مکمل نہ ہوسکی۔ تفتیشی افسر  نے سوال کے جواب میں کہا کہ دوران  تفتیش ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جو ظاہر کرے کہ نواز شریف نے اپنے اکاونٹ سے فلیگ شپ ، کوئینٹ پنڈ گٹن یا کسی دوسری کمپنی کے لئے رقم فراہم کی ہو۔ تفیشی افسر نے کہا  دوران تفتیش کسی گواہ نے ایسا بیان نہیں دیا کہ جس سے ظاہر ہو کہ نواز شریف کے بیٹے حسن اور حسین نواز  سال دوہزار یا اس کے بعد اپنے والد کے زیرکفالت رہے ہوں۔ خواجہ حارث کے سوال کے جواب میں تفیشی افسر نے کہا کہ  انہوں نے جے ٹی آئی کی تصدیق شدہ کاپی سے پہلے ایک غیر تصدیق شدہ کاپی حاصل کر لی تھی۔ جس پر جج ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ  جے آئی ٹی رپورٹ کے حصول سے متعلق اتنے سوالات کی کیا اہمیت ہے؟ نیب نے جیسے بھی یہ رپورٹ حاصل کی بس کر لی۔ خواجہ حارث نے  آئندہ سماعت تک تفتیشی افسر پر جرح مکمل کرلیں گے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی نواز شریف کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے پیشگی سوالنامہ فراہم کیا جائے تاکہ سوالات کا جواب جلد سے جلد دے سکیں۔ کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی۔