Monday, January 30, 2023

فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر 15ماہ تک کارروائی اور 183سماعتیں ہوئیں

فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر 15ماہ تک  کارروائی اور 183سماعتیں ہوئیں
اسلام آباد ( 92 نیوز) سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کیس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا، عدالت نے سابق وزیراعظم اور انکے بچوں کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا  حکم دیا ۔ اٹھائیس جولائی 2017 کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے گھر بھیج دیا جبکہ حکم دیا کہ نواز خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز دائر کیے جائیں۔ نیب عدالتی حکم پر  8 ستمبر 2017 کو نواز شریف ، ان کے بچوں اور انکے داماد کیپٹن (ر)صفدر کیخلاف تین ریفرنسز دائر کردیے۔ احتساب عدالت نے نواز شریف کو 19 ستمبر 2017 کو پیش ہونے کا حکم دیا،لیگی قائد 26 ستمبر کو پہلی بار احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش ہوئے۔ العزیزیہ ریفرنس میں 22 اورفلیگ شپ میں 16 گواہان پیش ہوئے، دونوں ریفرنسز ميں 15 ماہ کارروائی چلی جب کہ اس دوران 183 سماعتیں ہوئیں  اور کارروائی   19 دسمبر 2018 کو مکمل ہوئی۔نواز شریف 130 بار عدالت پیش ہوئے، انہیں پندرہ بار جیل سے احتساب عدالت پہنچایا گیا۔ پہلي 103سماعتيں جج محمدبشير نے کیں جن میں ایون فیلڈ ریفرنس بھی شامل تھا  ،  ٹرائل دوسری عدالت منتقل ہونے کے بعد العزیزیہ اور فلیگ  شپ ریفرنس میں  جج ارشدملک نے 80سماعتیں کیں جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔