Wednesday, November 30, 2022

فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت بدھ تک ملتوی

فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت بدھ تک ملتوی
اسلام آباد ( 92 نیوز) نوازشریف کےخلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے بتایا کہ سورس دستاویزات میں دو ٹریڈنگ لائسنس شامل ہیں، دوران سماعت کمرہ عدالت میں رش کے باعث احتساب عدالت کے جج لیگی کارکنوں  پر برہم ہوگئے۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کی، نواز شریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ  وکیل صفائی خواجہ حارث نے استٖغاثہ کے گواہ واجد ضیا پر دوسرے روز بھی جرح جاری رکھی ۔ خواجہ حارث نے  واجد ضیا سے  حسن نواز کی کمپنی کیپٹل ایف زیڈ ای  کی دستاویزات سے متعلق سوالات کئے ،   جواب میں واجد ضیاء نے بتایا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹ کے ساتھ صرف تین دستاویزات منسلک ہیں۔ انہوں نے کہا یہ درست ہے کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کی ملکیت اور کاروبار سے متعلق سپریم کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت ہے، یہ بھی درست  ہے کہ تیسرے ٹریڈنگ لائسنس کو جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا ۔ کمرہ عدالت میں لیگی رہنماؤں کی گنجائش سے زیادہ تعداد پر جج احتساب عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ نوازشریف جیل میں نہیں جس نے ملنا ہے باہر جا کر ملے۔ عدالتی وقت ختم ہونے پر جرح مکمل نہ ہوسکی  ۔ بدھ کو بھی  خواجہ حارث گواہ واجد ضیا پر جرح جاری رکھیں گے۔