Sunday, December 4, 2022

فرشتہ قتل کیس ، پوسٹمارٹم کی غلط رپورٹس جاری ہونے کا انکشاف

فرشتہ قتل کیس ، پوسٹمارٹم کی غلط رپورٹس جاری ہونے کا انکشاف
اسلام آباد ( 92 نیوز) فرشتہ قتل کیس میں غیر مستند ڈاکٹروں کی جانب سے پوسٹ مارٹم کی غلط رپورٹس جاری ہونے کا انکشاف  ہوا ہے ، اسپتال انتظامیہ کی جانب سے میڈیکو لیگل افسر کی  بجائے ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے پوسٹ مارٹم کرانے کا انکشاف ہوا ہے ، اہم شواہد نہ ملنے کے علاوہ فرشتہ کی موت کی وجہ بھی معلوم نہ ہو سکی۔ فرشتہ قتل کیس میں اسپتال انتظامیہ کی غفلت سامنے آ گئی  ،  ذرائع کے مطابق معصوم فرشتہ کا پوسٹ مارٹم غیر مستند ڈاکٹر سے کرایا گیا ۔ قوائد و ضوابط کے مطابق پوسٹ مارٹم میڈیکو لیگل افسر سے کرایا جانا تھا ، لیکن اسپتال انتظامیہ کے پاس سرے سے میڈیکو لیگل افسر موجود ہی نہیں تھا ۔

فرشتہ کیس میں جوڈیشل انکوائری افسر دو روز بعدہی تبدیل ‏

عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے پوسٹ مارٹم کرانے کے باعث پوسٹمارٹم رپورٹس بھی غلط نکلیں ،  فرشتہ کے موت کے حوالے سے اہم شواہد  نہ مل سکے، موت کی وجہ بھی معلوم نہ ہو سکی ۔ ذرائع کے مطابق کیس کے اہم شواہد ضائع اور مسخ ہو چکے ہیں۔ رواں سال 15 مئی کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد سے 10 سالہ فرشتہ  لاپتہ  ہو گئی تھی ،  ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاوٴن نے لڑکی کے گھر سے بھاگنے کا الزام لگا کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا، لواحقین تین دن تک تھانے کے چکر لگاتے رہے لیکن ایف آئی آر نہ کاٹی گئی، بعد میں فرشتہ کی لاش کو جنگل سے بر آمدہوئی تھی۔