Sunday, September 25, 2022

فاٹا اصلاحات بل، جماعت اسلامی اورفاٹا ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کو ڈیڈ لائن دیدی

فاٹا اصلاحات بل، جماعت اسلامی اورفاٹا ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کو ڈیڈ لائن دیدی

اسلام آباد ( 92 نیوز ) فاٹا ارکان پارلیمنٹ اور جماعت اسلامی نے فاٹا اصلاحات بل سے متعلق حکومت کو 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن دے دی ۔ فاٹا ارکان پارلیمنٹ ، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ فاٹا کا انضمام فوری طور پر خیبر پختون خواہ کے ساتھ کردیا جائے جبکہ مولانا فضل الرحمن کا موقف ہے کہ اس حوالے سے ریفرنڈم کرایا جائے کہ عوام خیبر پختون خواہ کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں یا پھر الگ صوبہ چاہتے ہیں۔
فاٹا اصلاحات بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے میں تاخیر پر جماعت اسلامی،فاٹا ارکان نے حکومت کو 31 دسمبر تک مہلت دی ہے کہ اگر فاٹا اصلاحات کا بل یا فاٹا کا انضمام خیبر پختون خواہ کے ساتھ نہ ہوا تو پھر اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا ۔
جماعت اسلامی،پیپلز پارٹی اور فاٹا ارکان پارلیمنٹ کا موقف ہے کہ فاٹا میں انگریزوں کے بنائے گئے قوانین ایف سی آر کا خاتمہ کرکے فاٹا کا انضمام کے پی کے ساتھ کردیا جائے۔
پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ایف سی آرکا خاتمہ مکمل طور پر نہ کیا جائے بلکہ اس میں موجود انسانی حقوق سے متعلق قوانین کو ختم کردیا جائے۔
فاٹا اصلاحات کے حوالے سے حکومتی ڈرافٹ میں فاٹا کا انضمام خیبر پختون خواہ سے کرنے کی تجویز ہے اور دس سال کے عرصے میں مختلف اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔
فاٹا میں ایف سی آر کی جگہ رواج ایکٹ کی تجویز جے یو آئی کی جانب سے دی گئی ہے ۔ تاہم فاٹا ارکان رواج ایکٹ کی بھی مخالفت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایف سی آر کی جگہ فاٹا میں رواج ایکٹ کے نافذ سے مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھیں گی۔