Friday, October 7, 2022

فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے پر نہ لانے پر اپوزیشن کا پھر واک آؤٹ

فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے پر نہ لانے پر اپوزیشن کا پھر واک آؤٹ

اسلام آباد ( 92 نیوز ) فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے پر نہ لانے پر اپوزیشن قومی اسمبلی سے پھر واک آؤٹ کر گئی ۔ محمود اچکزئی کے بیان پر ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی ۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہی نہیں ۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ اچکزئی فاٹا کو پاکستان کا حصہ نہیں مانتے تو ایوان میں کیوں بیٹھے ہیں۔


قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی صدارت میں ہوا ۔ فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے پر نہ لانے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ۔ محمود اچکزئی کے بیان پر اپوزیشن ارکان نے شورشرابہ شرو کر دیا جبکہ شیخ رشید کو بولنے کی اجازت دینے پر حکومتی ارکان سراپا احتجاج بن گئے ۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے دھواں دار خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوروں کے قانون کو نہیں مانتے ، پاکستان کا اپنا آئین ہے ۔ پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹیمپ نہیں بننے دیں گے ۔ اچکزئی فاٹا کو پاکستان کا حصہ نہیں مانتے تو ایوان میں کیوں بیٹھے ہیں ۔
پی پی رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے بھی فاٹا اصلاحات کی حمایت کردی ہے اب حکومت کو کیا خطرہ ہے ۔
شیخ رشید نے کہا کہ جب تک فاٹا کا بل نہیں آتا ہم احتجاج کرتے رہیں گے ۔
وفاقی وزیرعبدالقادربلوچ نے کہا فاٹا کے معاملے میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔ بل جلد ایوان میں پیش کر دیا جائے گا۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ فاٹا پاکستان کاحصہ ہی نہیں ۔ اگر فاٹا کی حیثیت تبدیل کی گئی تو بہت زیادہ نقصان ہو گا ۔
محمود خان اچکزئی کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا ۔
پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ اگر کسی نے کابل کی بات کرنی ہے تو وہاں چلا جائے ۔ علی محمد نشست پر کھڑے ہوکر چیختے رہے۔
ڈپٹی سپیکر نے انہیں ڈانٹ پلا دی۔ اپوزیشن کے واک آئوٹ کے بعد کورم کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد اجلاس کل صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔