Tuesday, September 27, 2022

غیر قانونی بھرتیاں ، سپریم کورٹ نے ایڈیشنل آئی جی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکردیا

غیر قانونی بھرتیاں ، سپریم کورٹ نے ایڈیشنل آئی جی کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکردیا
کراچی(92نیوز)سپریم کورٹ نےسندھ پولیس کی غیرقانونی بھرتیوں اورکرپشن کیس میں ایڈیشنل آئی جی کی رپورٹ پرعدم اطمینان کااظہارکردیا،عدالت نےریمارکس دئیےکہ میرٹ کی دھجیاں اڑانےوالوں کےخلاف کوئی ایکشن نہیں لیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ پولیس کی غیرقانونی بھرتیوں اوراربوں روپےکرپشن کیس کی سماعت عدالت کاایڈیشنل آئی جی سندھ کی رپورٹ پرعدم اطمینان کااظہار۔ جسٹس امیرہانی مسلم نےریمارکس دیئےکہ رپورٹ حقائق کےمنافی ہے اےآئی جی نےعدالت کوگمراہ کیا،179آسامیوں پر549 اہلکارکیسےبھرتی ہوئے؟کمیٹی میں شامل ڈی آئی جی نےانکارکیاتودوسرےافسر سےدستخط کرائےگئے۔ جسٹس امیرہانی مسلم نےاستفسارکیاکہ آئی جی نےعدالتی حکم پرعملدرآمدکیوں نہیں کیا،میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں لیکن  ذمہ داروں کےخلاف کوئی ایکشن نہیں لیاگیا،ڈی آئی جی منیرشیخ اورڈی آئی جی خالدشیخ کی انکوائری رپورٹ پرعملدرآمدہونا چاہئے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتح ملک نےتجویزدی کہ اےڈی خواجہ،سلطان خواجہ یانعیم شیخ کومقررکیاجاسکتا ہے،ایک دن کی مہلت دی جائے،وزیراعلیٰ سےمشاورت کےبعدجواب داخل کروں گا،عدالت نےمہلت دیتےہوئےریمارکس دیئےکہ معاملہ نیب کوبھجوادیں یاخودہی دیکھ لیں،سماعت بدھ کودوبارہ ہوگی۔