Thursday, December 8, 2022

عہدہ صدارت ختم ہونےسےقبل اوباما نےچیلسی میننگ کی سزا ختم کردی

عہدہ صدارت ختم ہونےسےقبل اوباما نےچیلسی میننگ کی سزا ختم کردی
واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے دورِ صدارت ختم ہونے سے صرف تین روز قبل غداری کے الزام میں قید انٹیلی جنس کی ماہر خاتون چیلسی میننگ کی سزا ختم کر دی۔ تفصیلات کے مطابق انتیس سالہ چیلسی میننگ جنس تبدیل کرانے سے پہلے بریڈلی میننگ نام کے مرد کی حیثیت سے فوج کے لیے خفیہ معلومات کا تجزیہ کرنے کی ماہر کے طور پر کام کرتیں تھیں۔ چیلسی میننگ کو دوہزار تیرہ میں غداری کے مقدمہ میں پنتیس سال کی سزا ملی تھی جو سترہ مئی دوہزار پنتالیس کو ختم ہونا تھی۔ وکی لیکس کے عنوان کے تحت سات لاکھ سے زائد دستاویزات اور وڈیوز افشا کی گئی تھیں جسے امریکی تاریخ میں خفیہ معلومات کو منظر عام پر لانے کا سب سے بڑا واقعہ قراردیا گیا ہے۔ گزشتہ  سال چیلسی میننگ نے کینساس میں واقع فورٹ لیوین ورتھ جیل میں دو دفعہ خود کشی کی کوشش کی تھی۔ اس سے پہلے وہ کچھ عرصے تک وہ بھوک ہڑتال پر بھی تھیں ، فوج کی جانب سےجینڈر ڈِسمورفیا نامی مرض کے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے پر رضامندی کے بعد چیسلی میننگ نے ہڑتال ختم کر دی تھی۔ چیلسی میننگ کے علاوہ صدر اوباما نے دوسو نو قیدیوں کی سزائیں ختم کرنے کا اعلان بھی  کیا ہے۔