Wednesday, January 19, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

عہدہ سرکاری‘ کاروبار ذاتی ... رائل ایئرپورٹ سروسز ادارہ شجاعت عظیم کی ملکیت نکلا

عہدہ سرکاری‘ کاروبار ذاتی ... رائل ایئرپورٹ سروسز ادارہ شجاعت عظیم کی ملکیت نکلا
December 27, 2015
لاہور (92نیوز) وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے ہوا بازی شجاعت عظیم ذاتی کاروبار کو فروغ دینے کے لیے اپنے سرکاری عہدے کو ناجائز طور پر استعمال کرتے رہے۔ 92 نیوز نے دستاویزی ثبوت حاصل کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ایوی ایشن ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ رائل ایئرپورٹ سروسز نامی ادارہ وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے ہوابازی شجاعت عظیم کی ملکیت ہے۔ رائل ایئرپورٹ سروسز خلیجی ممالک کی ایئر لائن کمپنیوں قطر ایئرویز، اتحاد ایئرلائن، ایمریٹس ایئرلائن اور فلائی دبئی وغیرہ کو پاکستانی ایئرپورٹس پر گراونڈ ہینڈلنگ کی سروسز فراہم کرتا ہے۔ 92 نیوز کے پاس موجود فیصل آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مینیجر کے اپنے سینئرز کو بھیجے گئے خط کے مطابق وزیراعظم کے سیکشن افسر برائے ہوابازی آفتاب گیلانی نے انہیں ٹیلی فون کے ذریعے آگاہ کیا کہ رائل ایئرپورٹ سروسز کی تین رکنی ٹیم فیصل آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ کرے گی۔ آفتاب گیلانی نے مینیجر سے کہا کہ وہ رائل ایئرپورٹ سروسز کی تین رکنی ٹیم کو رن وے سمیت پورے ایئرپورٹ کی مختلف تنصیبات کا تفصیلی دورہ کرائیں۔ الیکٹرک اور مکینیکل سہولیات کی فراہمی سمیت فیصل آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعلق تمام مطلوبہ معلومات فراہم کریں تاکہ رائل ایئرپورٹ سروسز نامی کمپنی یہ جائزہ لگا سکے کہ فیصل آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے کن ایریاز میں خامیاں ہیں اور انہیں کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ فیصل آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ کرنے والی وزیراعظم نوازشریف کے سابق معاون خصوصی برائے ہوابازی شجاعت عظیم کی ملکیتی کمپنی رائل ایئرپورٹ سروسز کی تین رکنی ٹیم کرنل ریٹائرڈ بدر خان، جنرل مینیجر ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر عامر رشید اور جنرل مینیجر آپریشنز اینڈ کوالٹی معتصم خورشید پر مشتمل تھی۔ رائل ایئرپورٹ سروسز کی ٹیم کے دورے کے بارے میں فیصل آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مینیجر نے اپنے سینئرز کو ایک خط بھیجا اور انہیں تمام تر تفصیلات و جزئیات سے آگاہ کیا مگر ایک معمولی افسر کی ٹیلی فون کال پر نجی ادارے کے اہلکاروں کو انتہائی حساس تنصیبات کا دورہ کرائے جانے کے واقعے کو انتہائی خاموشی کے ساتھ دبا دیا گیا۔