Saturday, October 1, 2022

عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ

عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ
اسلام آباد (92نیوز ) ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں تین ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مقدمے کے نامزد ملزمان معظم علی، محسن علی اور خالد شمیم کو سخت سکیورٹی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران ایف آئی اے کی جانب سے دس روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم جج کوثر عباس نے سات دن کے ریمانڈ کی منظوری دی۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمان عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010ءکو لندن میں واقع گھر کے باہر قتل کر دیا گیا تھا۔ لندن میں میٹروپولیٹن پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم واقعے کو پانچ برس سے زیادہ عرصے گزرنے کے بعد پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی مدعیت میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے میں الطاف حسین کے علاوہ ان کے رشتہ دار افتخار حسین، رابطہ کمیٹی کے رکن محمد انور، معظم علی، خالد شمیم، کاشف خان اور محسن علی کے نام شامل ہیں۔ ان سات ملزمان میں سے تین افراد معظم علی، محسن علی اور خالد شمیم پہلے ہی قانون نافد کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔ معظم علی کو کراچی میں نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ان دو افراد کو لندن بھجوایا جن پر ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے کا الزام ہے۔