Friday, October 7, 2022

عمران فاروق قتل کیس ،جے آئی ٹی نے کراچی سے ریکارڈ لانے کیلئے ٹیم کی منظوری دیدی

عمران فاروق قتل کیس ،جے آئی ٹی نے کراچی سے ریکارڈ لانے کیلئے ٹیم کی منظوری دیدی
اسلام آباد(92نیوز)ڈاکٹر عمران قتل کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کراچی سے ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے ٹیم کی منظوری دے دی جے آئی ٹی کے  ہونے والے  اجلاس میں عبوری چالان اورایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین سمیت  عدم گرفتار ملزموں کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے ۔ تفصیلات کےمطابق ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں کاونٹر ٹیررزم ونگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مظہر الحق کاکا خیل کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا اہم اجلاس ہوا اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر سی ٹی ڈبلیو شعیب اعظم ،رینجرز کے ڈی ایس آر طاہر اقبال کے علاوہ آئی ایس آئی اور ائی بی کے منتخب نمائندوں نے شرکت کی جے آئی ٹی کے اجلاس میں داکٹر عمران فاروق قتل  کیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزموں سے اب تک ہونے والی تفتیش کی رپورٹ پر بریفنگ دی گئی جبکہ  مرتب کیا گیاعبوری چالان کی تفصیل سے بھی جے آئی ٹی کو آگاہ کیا گیا جے آئی ٹی کو بتایا گیا کہ عبوری چالان میں ملزم معظم علی ،خالد شمیم اور محسن علی سید کا اعترافی بیان شامل کیا گیا ہے جبکہ ایف آئی آر کو بھی چالان کا حصہ بنایا گیا ہےجے آئی ٹی نے چالان کے مختلف قانونی پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد اسے عدالت پیش کرنے کی منظوری دے دی۔ جے آئی ٹی کے اجلاس میں مقدمے میں نامزد اور عدم گرفتار ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تفتیشی ٹیم کی جانب سے جے آئی ٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک تین ملزم گرفتار کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہےجبکہ ایک مرکزی ملزم کاشف خان کامران عدم گرفتار اور لاپتہ ہیں جس کی گرفتاری کے چار ٹیمیں کراچی ، کوئٹہ ،چمن اور حیدر آباد بھجوائی گئی تاہم ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی  جے آئی ٹی نے تفتیشی ٹیم کی سفارش پر الطاف حیسن سمیت  چاروں عدم گرفتار ملزموں کے ٹرائل کورٹ سے  وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے کی  منظوری بھی دی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے اجلاس میں کراچی اور دیگر مقامات سے کیس سے جڑے ثبوت اور ریکارڈ حاصل کرنے کی بھی منظوری بھی دی، ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی اجلاس میں گرفتار ملزموں میں سے دو کو دفعہ164 کے تحت ایگزیکیٹو مجسٹریٹ کی عدالت سے بیانات قلمبند کرنے کی منظوری بھی  دی گئی ہے۔