Friday, January 21, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

عمران فاروق قتل کیس ، عشرت العباد سے بھی تفتیش کا فیصلہ

عمران فاروق قتل کیس ، عشرت العباد سے بھی تفتیش کا فیصلہ
September 22, 2019
کراچی ( 92 نیوز) ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ، ایف آئی اے نے  سابق گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد سے بھی پوچھ گچھ کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی اجازت کے بعد ڈاکٹرعشرت العباد سے تفتیش کے لیے ایف آئی اے  کی ٹیم دبئی جاسکتی ہے ۔ چند روز قبل برٹش پولیس نے کیس سے متعلق اہم شواہد پاکستان کے حوالے  کرنے کا کہا تھا، جس پر  ایف آئی اے نے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو بھی کیس میں شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں  برطانوی حکومت  26 دستاویزی شواہد پاکستان کے حوالے کرے گی ، مقتول کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ، پوسٹ مارٹم رپورٹ، گواہوں کے بیانات بھی  ٹرائل کورٹ میں پیش کیے جاسکیں گے۔ [caption id="attachment_241958" align="alignnone" width="500"] عمران فاروق قتل کیس ، عشرت العباد سے بھی تفتیش کا فیصلہ ‏[/caption] ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی شواہد کی تفصیلات سامنے آگئیں ، ایف آئی اے  یوکے سینٹرل اتھارٹی سے 26 دستاویزی شواہد  حاصل کرکے عدالت میں پیش کرسکے گی۔92 نیوز کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق پاکستان نے برطانیہ سے 26 دستاویزی شواہد فراہم کرنے کی استدعا کی تھی ، شواہد میں تصاویری شواہد بھی شامل ہونگے۔ برطانوی  حکومت نے ڈاکٹر عمران فاروق کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی پاکستان کو فراہم کرنے کی پاکستانی درخواست  منظور  کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو  چھریوں  کے وار سے قتل کیا گیا تھا۔ فرانزک رپورٹ، فنگر پرنٹس رپورٹس تیار کرنے والے ماہرین کے بیان  اور   کیس سے جڑے اہم ترین  گواہوں کے بیانات بھی  برطانوی شواہد میں  شامل ہیں ۔ دو جون 2008 کا ڈاکٹر عمران فاروق کا تصدیق شدہ بیان بھی پاکستان کو ملنے والے شواہد کا حصہ  ہوگا ،   کیس میں تین ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں ،  جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کے  پاکستانی فیصلے کے بعد برطانوی حکومت نے شواہد فراہم کرنے کی رضا مندی ظاہر کی تھی۔ برطانوی شواہد انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔