Friday, January 21, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

عمران خان جس بھی افسر کا نام لیں اسی سے تحقیقات کے لئے تیار ہیں: چودھری نثار

عمران خان جس بھی افسر کا نام لیں اسی سے تحقیقات کے لئے تیار ہیں: چودھری نثار
April 9, 2016
راولپنڈی (نائنٹی ٹو نیوز) وزیر داخلہ چودھری نثار نے پاناما لیکس پر جامع تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جس بھی افسر کا نام لیں اسی سے تحقیقات کے لئے تیار ہیں لیکن اپوزیشن کی جانب سے طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا ہے۔ سیاست نہ چمکائی جائے، اسی وجہ سے ریٹائرڈ ججز نے کمیشن کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ کہتے ہیں سرکاری ٹی وی پر خطاب کا اختیار صرف صدراور وزیراعظم کو ہے۔ کلرسیداں راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں چودھری نثار نے پاناما لیکس پر تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ عمران خان جس مرضی افسر یا پینل سے تحقیقات کرانا چاہیں کرا لیں، حکومت تیار ہے۔ الزامات کی سیاست سے گریز کیا جائے، اسی وجہ سے ریٹائرڈ ججز نے انکوائری کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ عمران خان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حقیقت عیاں ہونی چاہیے۔ عمران خان کے قوم سے خطاب کے مطالبے پر چودھری نثار نے واضح کیا کہ سرکاری ٹی وی پر خطاب کا اختیار صرف صدر اور وزیراعظم کو ہے۔ آج تک تو اپوزیشن لیڈر نے بھی خطاب نہیں کیا۔ چودھری نثار نے پاناما لیکس پر انکوائری کے حوالے سے واضح کیا کہ دنیا بھر میں الزامات عائد کئے گئے ہیں مگر تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں اور حکومت خود اس کے لئے تیار ہے۔ دریں اثنا چودھری نثار نے کہا ہے کہ ڈی چوک، ایف نائن پر آئندہ کوئی جلسے نہیں کرنے دیں گے، پورا پاکستان پڑا ہے۔ احتجاج کرنے والے کہیں اور جلسے کریں۔ کہتے ہیں حالیہ دھرنے میں گندی زبان استعمال کی گئی، اسلام تو امن کا دین ہے۔ مذہب کے نام پر املاک کو نقصان نہیں پہنچانے دیں گے۔ چودھری نثار نے کہا کہ اسلام آباد کے لوگوں کو ہمیشہ مشکل میں ڈالا جاتا ہے، پورا پاکستان پڑا ہے، یہ لوگ صرف اسلام آباد ہی کیوں آکر احتجاج کرتے ہیں۔ آئندہ ڈی چوک پر کسی کو احتجاج کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسلام آباد میں دھرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام تو امن کا دین ہے لیکن پھر بھی یہاں احتجاج کرنے والوں نے گندی زبان استعمال کی، املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ مذہب کے نام پر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے جڑواں شہروں کے مکینوں کو سخت ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔