Tuesday, January 18, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

علیمہ خان نے اپنی جائیدادوں پر پہلی بار زبان کھول دی ‏

علیمہ خان نے اپنی جائیدادوں پر پہلی بار زبان کھول دی  ‏
January 14, 2019
اسلام آباد ( 92 نیوز) علیمہ خان  نے اپنی جائیدادوں پر پہلی بار زبان کھول دی  اور  کہا کہ   میری سلائی مشینوں کا مذاق اڑایا گیا ، بیس سال سے کام کررہی ہوں ۔ وزیر اعظم عمران خان کی ہمیشرہ علیمہ خان نے اپنی جائیدادوں سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمام جائیدادیں مکمل جائز  ہیں ،  اپنی کمائی اور خاوند کے اثاثوں سے خریدیں ، ہماری سالانہ ایکسپورٹس کا حجم دو ارب سے زیادہ ہے  ۔  انہوں نے  جائیدادوں کو شوکت خانم چندے سے جوڑنے کا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا۔ علیمہ خان بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق کیس میں  پیشی کیلئے سپریم  کورٹ پہنچیں تو صحافیوں نے سوالات کی بوچھاڑ کردی، علیمہ خان نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا۔ان کی تمام جائیدادیں ڈکلیئرڈ ہیں۔  وہ امریکا والی  جائیداد بھی ظاہر کرچکی ہیں۔ علیمہ خان  نے صحافیوں کو بتایا  کہ ان کا ایکسپورٹ کا بزنس ہے اور وہ یہ کام بیس سال سے کر رہی ہیں۔ ۔ ان کی سلائی مشینوں کا مذاق اڑایا گیا۔ پاکستان میں بہت  سی  خواتین سلائی مشین سے روزگار کما رہی ہیں ۔ ایک صحافی نےعلیمہ خان سے سوال کیا کہ    آپ کو اپوزیشن کی جانب سے  عمران خان کا بے نامی دار ٹھہرایا جا رہا ہےجس پر ان کا مؤقف تھا وہ اس حوالے سے اپنا بیان دے چکی ہیں۔ انہیں عمران خان سے نہیں والدین کی جانب سے بھی حصہ ملا ۔ صحافی نے پھر سوال داغا کہ   آپ کہتے تھے کہ ہماری بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں تو اب اتنی جائیداد کیسے نکل آئی۔جس پر علیمہ خان نے جواب دیا ریکارڈ چیک کر لیں تمام چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں  ۔ویلتھ اسٹیٹمنٹ  بھی دیکھ لیں، ساری  جائیداد  بزنس سے بنائی ہے ۔ان کی  سالانہ ایکسپورٹس کا حجم 2 ارب سے زیادہ ہے۔ 3 کروڑ 9 ہزار 2 سو 34 روپے کی سرمایہ کاری اور بینک آف دبئی سے لئے گئے قرض سے دبئی کی جائیداد خریدی۔دبئی کی جائیداد خریدنے کیلئے سرمایہ بینکنگ چینلز کے ذریعے بھجوایا۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ  نیو جرسی کی جائیداد کی خریداری میں 1 کروڑ 45 لاکھ کی سرمایہ کاری اور امریکی بینک سے حاصل کیا گیا قرض استعمال ہوا۔ علیمہ خان نے تنقید کرنےوالوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ  ایک حلقہ  ان کی جائیدادوں کا ناطہ شوکت خانم کو دئیے جانے والے چندے سے جوڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ شوکت خانم اسپتال ان کی والدہ   کے نام پر قائم  خیراتی ادارہ ہے۔