Monday, October 3, 2022

علمی پس منظر رکھنے والے مولوی ہیبت اللہ طالبان کیلئے کتنے موثر ؟

علمی پس منظر رکھنے والے مولوی ہیبت اللہ طالبان کیلئے کتنے موثر ؟
کابل (ویب ڈیسک) افغان طالبان کے نئے امیر مولوی ہیبت اللہ افغانستان میں طالبان کے دور حکومت کے دوران ڈپٹی چیف جسٹس رہے۔ افغان طالبان کے دارالافتاءکے رکن کی حیثیت سے فتاویٰ جاری کرتے رہے اور طالبان کے پہلے امیر ملا عمر انہیں استاد مانتے تھے۔ تفصیلات کے مطابق افغان طالبان کے نئے امیر مولوی ہیبت اللہ کو افغان طالبان میں شیخ الحدیث کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ افغان طالبان کے دارالافتاءکے رکن کی حیثیت سے فتاویٰ جاری کرتے رہے۔ افغان طالبان کے بانی امیر ملا عمر انہیں استاد مانتے تھے۔ افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں ڈپٹی چیف جسٹس کی حیثیت سے عدالتوں کے انتظامی امور کے نگران رہے۔ ملا عمر کی ہلاکت کے بعد ملا اختر منصور امیر بنے تو انہوں نے مولوی ہیبت اللہ کو نائب امیر اول مقرر کیا۔ مولوی ہیبت اللہ قندھار کے نورزئی قبیلہ کے تعلق رکھتے ہیں اور طالبان کے کمانڈروں کی بڑی تعداد بھی نور زئی قبیلہ سے ہے۔ اسی وجہ سے انہیں امیر مقرر کیا گیا کہ وہ افغان طالبان کو متحد رکھنے والی طاقت بن سکتے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق سراج الدین حقانی اور ملایعقوب ازخود دستبردار ہوئے جبکہ شوریٰ کے کئی ارکان بھی ڈرون حملے کے ڈر سے اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔