Monday, October 3, 2022

عراق میں پھر احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوگیا

عراق میں پھر احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوگیا
دمشق (92 نیوز) عراق میں معاشی بدحالی اور حکومتی کرپشن کے خلاف ایک بار پھر احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہو گیا ، سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 42 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے۔ عراق  ایک بار پھر بحران میں گِھر گیا، ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہرے پرتشدد ہو گئے،  سکیورٹی فورسز اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاء نے مظاہرین پر آنسو گیس اور گولیوں کی بارش کر دی۔ جنوبی شہر امارا میں مظاہرین کے ساتھ تصادم میں ایک انٹیلی جنس اہلکار اور نجی ملیشیاء کا ایک رکن بھی ہلاک ہوئے ہیں ، پورے ملک میں زخمیوں کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔ کئی مقامات پر احتجاج پُر تشدد شکل اختیار کر گیا ، مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں کے دفاتر سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگا دی۔ عراق کے سب سے بڑے مذہبی رہنما آیت اللہ علی سیستانی نے فریقین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں احتجاج اور مظاہروں کا آغاز یکم اکتوبر کو ہوا تھا جس میں حصہ لینے والے زیادہ تر افراد نوجوان اور بیروزگار تھے۔