Friday, September 30, 2022

عدلیہ پرپریشر ڈالنے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا، چیف جسٹس آف پاکستان

عدلیہ پرپریشر ڈالنے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا، چیف جسٹس آف پاکستان

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ پر کوئی پریشر ہے نہ ہی دباؤ ڈالنے والا کوئی پیدا ہوا ہے ۔ معلوم نہیں تھا کہ حدیبیہ کا فیصلہ بھی جمعہ کو آرہا ہے ۔ جج جانبدار ہوتے تو یہ فیصلہ جس طرح آیا ہے اس طرح نہ آتا ۔
چیف جسٹس نے لاہور میں پاکستان بار کونسل کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں عمران خان،نوازشریف اور جہانگیر ترین میں پھنس گیا ۔ قوم کو ناانصافی سے نکالنے کیلئے میری مدد کریں ۔ ہاتھ پھیلا کرکہتا ہوں نظام میں اصلاحات کی جائیں ۔ سیاسی کچرا عدلیہ کی لانڈری میں دھلنا بند ہوجائے تو باقی مقدمات پر بھی توجہ دیں ۔
لاہور میں پاکستان بار کونسل کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہمارے نظام میں تاخیر سب سے بڑی خرابی ہے ۔ جوڈیشری کا ادارہ آپ کا بزرگ ہے ۔ جب بزرگ فیصلہ کرتا ہے تو کوئی بزرگ کے خلاف گالیاں نہں نکالتا ۔ اس بزرگ کی انٹیگریٹی پر شک نہ کریں، آپ کے خلاف فیصلہ ہوجائے تو یہ مت کہیں بابا کسی پلان کا حصہ بن گیا۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے اور ہمارے ساتھیوں نے قسم اٹھائی ہے کہ اپنے آئین کا تحفظ کریں گے، اپنے بچے کو شرمندگی کے ساتھ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔
ان کا کہنا تھا وکلا ججز کی معاونت کریں، اپنے ادارے کو مضبوط کرنے میں تعاون کریں، تبصرہ کرنے والے لوگ جنہوں نے فیصلہ نہیں پڑھا ہوتا، انہیں حالات پتا نہیں ہوتے وہ ایسا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بھی سن کر حیران ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حلفاً کہتا ہوں مجھے نہیں پتا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کا فیصلہ اسی دن آنا ہے، میں نے کہا ہے کہ کوئی فیصلہ ایک ماہ سے زیادہ محفوظ نہیں ہونا چاہیے۔
جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اگر کسی کا زور چلتا ہوتا تو پھر حدیبیہ کا فیصلہ اس طرح سے نہ آتا جس طرح سے آیا، ہر جج فیصلے لینے میں آزاد ہے۔