Sunday, October 2, 2022

عدالت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر جلد فریم ورک تیار کرنے کا حکم

عدالت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر جلد فریم ورک تیار کرنے کا حکم
اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر جلد فریم ورک تیار کرنے اور ٹیکسز کا جواز پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیئر پرسن اوگرا سے 6 ہفتوں کی کارکردگی کی رپورٹ 6 دن میں طلب کر لی گئی۔ سپریم کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات از خود نوٹس کیس کی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل کو پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے آڈٹ کے لئے ماہرین سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت نے اوگرا کا انسپکشن ونگ آؤٹ سورس کرنے اور 37 لاکھ تنخواہ لینے والے ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔ چیئرپرسن اوگرا اورپی ایس او کے افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ پٹرول کی قیمت بڑھے تو سیل ٹیکس کم کردیا جاتا ہے۔ چیئرپرسن اوگرکا کہناتھا کہ آئل کی قیمتوں کا تعین ہم نہیں کر سکتے مگر گیس کی قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔ ہم ٹی او آر بناتے ہیں۔ تھرڈ پارٹی انسپکشن کو مکمل اختیار دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی ایس او کی چھ ماہ کی درآمدات کا آڈٹ کرا لیتے ہیں ۔ معلوم ہو سکے کہاں کہاں کمیشن لیا جاتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہناتھا کہ ایک لیٹر پٹرول خریدنے والے کو چالیس روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ ساری گیم خریداری کے موقع پر ہوتی ہے جس پر چیئرپرسن اوگرا کا کہناتھا کہ عدالت درآمد کرنے کا آڈٹ کرا سکتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے دباؤ پرآج انہوں نے قیمتیں کم کی ہیں۔ ہم نے ریاست کو چلانا ہے۔ نہیں چاہتے کہ عوام سے کوئی ذیادتی ہو، جائز چارج بنتا وہ لیں باقی عوام کو دینا ہے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ  ڈیموں کے فیصلے کے بعد انھوں نے تربیلا ڈیم کا دورہ کیا ، وہاں کام کرنے والے لوگوں نے کہا نئے ڈیم کی تعمیر میں کمیشن مافیا کو دور رکھیں۔ اس کے بعد پیٹرولیم کیس کی  سماعت 14 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔