Wednesday, December 7, 2022

عدالت کا ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ کو فی الفور ہٹانے کا حکم

عدالت کا ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ کو فی الفور ہٹانے کا حکم

کراچی (92نیوز) سپریم کورٹ نے ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ مصباح الدین فرید کو فی الفور عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ ایم ڈی واٹر بورڈ کیڈر پوسٹ ہے، کسی کیڈر آفیسر کو ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ تعینات کیاجائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ شرم کی بات ہے نیوکلیئر پاور ہیں اور آلودہ پانی صاف کرنے کا حل نہیں نکال سکتے۔ جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا سندھ کے لوگ منچھر جھیل کا زہریلا پانی پی کر مر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی سپریم کورٹ رجسٹری میں آلودہ پانی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ واٹر کمیشن نے سپریم کورٹ رجسٹری میں رپورٹ جمع کرا دی۔ سپریم کورٹ رجسٹری میں پیش کردہ واٹر کمیشن رپورٹ میں دل دہلا دینے والے حقائق بے نقاب ہوئے۔ کراچی، حیدرآباد، کوٹری، بدین، ٹھٹھہ، لاڑکانہ، شکارپور، سکھر، جیکب آباد اور عمرکوٹ میں پچاسی فیصد آبادی کو گندا اور مضر صحت پانی پلانے کا انکشاف ہو گیا جس کے باعث لوگوں کی اکثریت وبائی امراض کا شکار ہے، کاشت کاری میں بھی گندا پانی استعمال کیا جارہا ہے۔

کمیشن رپورٹ کے مطابق کراچی اور لاڑکانہ اسی فیصد، شکارپور اٹھاسی، سکھر بیاسی اور حیدرآباد میں پچاسی فیصد پانی قابل استعمال نہیں۔ رائس، دیہہ گاڑی، ایری گیشن اور انڈس کینال میں گندا اور فضلے والا پانی شامل کیا جارہا ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں سیوریج جبکہ جیکب آباد اور ٹھٹھہ میں واٹر فلانٹس موجود ہی نہیں۔ کوٹری، بدین، مٹھی، عمرکوٹ اور میرپور خاص میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس ناکارہ ہوگئے ہیں۔

واٹر کمیشن رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کراچی میں سیوریج اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پر سالانہ کروڑوں روپے لگائے جاتے ہیں لیکن پپری، منگھوپیر اور سی اوڈی کے مقام پر نصب کردہ آراو پلانٹس فعال ہی نہیں۔ محمودآباد میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی سو ایکڑ اراضی پر قبضہ اور غیرقانونی لیز دی گئی ہے۔ شہر کا گندا پانی سمندر میں چھوڑنے سے آبی حیات، مینگروز اور دیگر کو خطرات لاحق ہیں۔