Tuesday, January 25, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

عدالت عظمیٰ میں بھی جعلی دستاویزات کی بازگشت

عدالت عظمیٰ میں بھی جعلی دستاویزات کی بازگشت
July 20, 2017

اسلام آباد(92نیوز)پاناما عملدرآمدکیس کی سماعت کے دوران، عدالت عظمیٰ میں جعلی دستاویزات کر چرچا رہا، جسٹس  عظمت سعید نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیاکہ چار فروری کو کونسا دن تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہفتے کو برطانیہ میں چھٹی ہوتی ہےکوئی فون بھی نہیں اٹھاتاپھر ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کیسے ہوگئی۔

تفصیلا ت کےمطابق سپریم کورٹ میں پاناما عملدرآمد کیس کی چوتھی سماعت کےدوران جعلی دستاویزات کا چرچا،  سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے بچوں کی جے پی سی اے دستاویزات پر اعتراض اٹھادیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا  کہ 4فروری 2006کو دن کونسا تھا؟

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ ہفتے کو برطانیہ میں تو چھٹی ہوتی ہے ہفتے کے روز تو وہاں کوئی فون بھی نہیں اٹھاتا

ہفتے کا دن تھا تو ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کیسے ہوئی؟ تعطیل والے دن کیسے کاغذات کی تصدیق ہو سکتی ہے؟

 جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا بادی النظر میں جعلی دستاویزات پر قانون اپنا راستہ خود بتائے گا سپریم کورٹ اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی دستاویزات نے ان کا دل توڑ دیا۔ جسٹس عظمت سعید نے ڈپٹی اٹارنی جنرل رانا وقار سےاستفسار کیا کہ جعلی کاغذات پرکیا کارروائی ہوسکتی ہے۔ جس پررانا وقارنےجواب دیا کہ دفعہ476  کے تحت  7 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ حسن ،حسین اور مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ  واضح رہےکہ جےآئی ٹی کی جانب سےسپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مریم نوازنےجعلی ٹرسٹ ڈیڈ فراہم کی جس کےمطابق مریم نواز لندن کی ایون فیلڈ پراپرٹیزکی ٹرسٹی ہیں۔ جےآئی ٹی کی رپورٹ کےمطابق مریم نوازمنروا سروسزکی جائیداد کی مالک ہیں۔

عدالت کی جانب سے جعلی دستاویزات کے تذکرے کے بعد ن لیگ کیلئے خطرے کی نئی گھنٹی بج چکی ہےکیونکہ کاغذات جعلی ہونے کی صورت میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سات سال کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔