Tuesday, January 18, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

عبدالستار ایدھی کو دنیا سے گئے ایک سال بیت گیا

عبدالستار ایدھی کو دنیا سے گئے ایک سال بیت گیا
July 8, 2017

کراچی (92نیوز)پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانیت کی خدمت کے حوالے سے پہچانے جانے والے سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کو ہم سے بچھڑے ایک سال بیت گیا ۔ تئیس سال کی عمر سے انسانیت کی فلاح کو مقصد بنانے والے عظیم مسیحا کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں۔

تفصیلات کےمطابق مولانا عبدالستار ایدھی  1928 میں بھارت کی  ریاست  گجرات کےعلاقے بانٹوا میں پیدا ہوئے ،1947میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے ،،1950 میں بانٹوا میمن برادری نے خیراتی شفاخانہ بنایا تو اس کے لئے فعال ہوگئے 1972 میں عبدالستار ایدھی ٹرسٹ قائم کیا اور سہراب گوٹھ فیڈرل بی ایریا میں اپنا گھر کے نام سے کام شروع کیا انسانیت کی اس خدمت میں ان کی شریک حیات بلقیس ایدھی ان کے شانہ بشانہ رہیں ۔ 1951 میں بالکل صفر سے آغاز کرنے والے مولانا ایدھی نے اس ادارے کو ملک کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ بنادیا ۔وہ ملک و قوم کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں جس نے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تصور اجاگر کیا ، عبدالستار ایدھی نے ایمبولینس سروس شروع کی جس کا دائرہ ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے ،گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی ان کا نام دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کے حوالے سے درج ہے   جو ہر پاکستانی کے لیے باعث فخر ہے ،ایدھی فاونڈیشن  میں 60 ہزار سے زائد بےسہارا افراد کو ٹھکانہ ملا ہے۔ ایدھی ٹرسٹ نے25 ہزار سے زائد لاوارث  بے گورو کفن لاشوں کو دفن کیا جبکہ 20 ہزار سے زائد بچے گود لئے اسی طرح تقریبا 50 ہزار نشئی افراد کا علاج بھی کروایا، اس کے ساتھ ہی نرسنگ سینٹر ،لیباریٹری، میٹرنٹی ہوم ،انسداد منشیات سینٹر بھی قائم کئے، پاکستان کی پہلی فضائی ایمبولینس سروس بھی متعارف کرانے کا سہرا درویش صفت  عبدالستار ایدھی کے سر ہے مولانا ایدھی  نے اپنی خدمات کو صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ دنیا بھر میں جہاں بین الاقوامی فلاحی تنظیمیں جاتے ہوئے گھبراتی تھیں وہاں فخر پاکستاں عبدالستارایدھی نے آگے بڑھ کر جنگ اور آفت زدہ علاقوں میں بلاخوف و خطر خدمات انجام دیں ۔ انسانیت کے لئے عبدالستار ایدھی کی بے لوث خدمات پر انھیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد ایوارڈ سے نوازا گیا ہے 1980 کی دھائی میں حکومت نے انھیں نشان امتیاز سے دیا جبکہ پاک فوج کی طرف سے شیلڈ آف آنر پیش کیا گیا ہے جبکہ جامعہ کراچی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند بھی دی ہے ،عبدالستار ایدھی کو دو مرتبہ نوبل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا مگر شائد نوبل انعام دینے والے منصفین  میں کٹھن اور خطرناک حالات میں انسانیت کی خدمت کرنے والے  درویش ایدھی کی خدمات کو جانچنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔