Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

عاصمہ قتل کیس ،پولیس جائے وقوعہ سے مکمل ثبوت اکٹھے نہ کر سکی

عاصمہ قتل کیس ،پولیس جائے وقوعہ سے مکمل ثبوت اکٹھے نہ کر سکی
January 30, 2018

کوہاٹ ( 92 نیوز ) کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ کے قتل کی تفتیش میں خامیاں سامنے آگئیں ۔  خیبر پختونخوا پولیس کے حوالے سے بلند وبانگ دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ۔قتل کے چار روز بعد بھی جائے وقوعہ پر گولیوں کے خول کی موجودگی  سے واضح ہو گیا کہ  پولیس قتل کیس کی تفتیش میں  کتنی سنجیدہ ہے ۔

کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ کے قتل میں پولیس کی ناقص تفتیش سے 92 ٹو نیوز نے پردہ اٹھا دیا۔مقتولہ عاصمہ اپنی بھابھی کے ساتھ بازار سے واپسی پر تین بج کر بیس منٹ پر گھر کے سامنے رکشے سے اترتی ہے۔ایف آئی آر کے مطابق پہلے سے گھات لگائے بیٹھے ملزم مجاہد اور اس کے بھائی صادق نے  فائرنگ کر دی۔

پولیس کےمطابق عاصمہ کو تین گولیاں لگیں جس کے بعد اسے  اسپتال شفٹ کیا گیا  ۔اسی دوران عاصمہ  نے اپنا نزعی بیان بھی  دیا کہ مجاہد نے اس پر فائرنگ کی ہے ۔  جو اس کے بھائی نے ویڈیو میں محفوظ کر لیا ۔ اگلے دن عاصمہ  اسپتا ل میں دم توڑ گئی ۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم مجاہد کوہاٹ سےفرار ہوا اور سیدھا اسلام آباد کے ایئر پورٹ پر سعودی ایئر لائن کی را ت 9 بجے کی پرواز سے فرار ہو گیا ۔کوہاٹ سے اسلام آباد کا سفر اڑھائی سے تین گھنٹے کا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ ملزم مجاہد  نے پوری منصوبہ بندی کے تحت عاصمہ کو قتل کیا اور آرام سے فرار ہو گیا۔

چینل 92 ٹو نیوز کی ٹیم  جب وقوعہ کے چوتھے روز مقتولہ عاصمہ کے گھر پہنچی تو گھر کے باہر سے جائے وقوعہ سے گولیوں کے دو خول ملے ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا پولیس کی تفتیش پر سوالیہ نشان اٹھا دیئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مقتولہ عاصمہ کو تین گولیاں لگی ہیں تو پھر ملنے والے یہ دو خول کس کے ہیں ۔ان سوالات کے جواب کون دے گا؟۔