Wednesday, December 7, 2022

طیبہ تشدد کیس : سپریم کورٹ کا ٹرائل روکنے کا حکم

طیبہ تشدد کیس : سپریم کورٹ کا ٹرائل روکنے کا حکم
  اسلام آباد(92نیوز)سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل روکنے کا حکم دے دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو معاملے کا 15روز میں خود جائزہ لینے کی ہدایت۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کہتے ہیں کہ کہ ازخود نوٹس لیا ہے تو کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں کہ ملزمان بااثرہیں کیس دوسرے صوبے میں منتقل کیا جائے ۔ تفصیلات کےمطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے طیبہ تشدد ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل روکنے کا حکم دیتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملہ کا 15 روز میں جائزہ لے۔ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ  دباﺅ کی وجہ سے بچی کے والدین کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریزاں ہیں۔ ملزمان کے اثر ورسوخ کے باعث انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔ پولیس چالان میں کئی دفعات کو شامل نہیں کیا گیا۔ چالان میں بچوں کی فروخت اور جبری مشقت شامل نہیں، جب تک ریاست معاملے میں دلچسپی نہیں لے گی انصاف نہیں ملے گا۔ سپریم کورٹ اس کیس میں حکومت کو سپیشل پراسکیوٹر کی تعیناتی کا حکم دے۔ پشاور لاہور چکوال یا جہلم یا دیگر شہروں سے پراسکیوٹر تعینات کئے جائیں۔ چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیاقانون میں اس کی گنجائش موجود ہے؟ ٹرائل کورٹ کاسربراہ ملزم کارفیق کار بھی ہوسکتاہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس میں کہا کہ بنیادی حقوق کی سب سے بڑی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے ۔ زندگی سب سے بڑا بنیادی حق ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا کہ ازخود نوٹس لیا ہے تو کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ طیبہ کی حوالگی سے متعلق فیصلہ اگلی سماعت پرکریں گے ۔بہترہوگا بچی کو ایس اوایس ویلج بھجوادیاجائے۔  عاصمہ جہانگیر نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کو کسی دوسرے صوبے میں منتقل کیا جائے۔ اس پر  سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ ہائی کورٹ کیس منتقلی سے متعلق واضع حکم جاری کرے۔ کیس کی سماعت 21 مارچ تک ملتوی کر دی گئی.