Friday, October 7, 2022

طلال چودھری کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

طلال چودھری کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا
اسلام آباد ( 92 نیوز ) سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیرطلال چوہدری کےخلاف توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا ، جسٹس گلزارکا ریمارکس میں کہنا تھا کہ طلال چوہدری نے اپنے الفاظ سے انکار نہیں کیا ،  انھیں بخوبی علم تھا  ۔  جسٹس سردار طارق نے کہا کہ آزادی اظہار رائے اور گالیاں دینے میں فرق ہے۔ سابق وفاقی وزیر طلال چوہدری کےخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس گلزار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ،  سپریم کورٹ نے طلال چوہدری کے وکیل کامران مرتضی اور پراسیکیوٹر عامر رحمان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ۔ کامران مرتضی نے دلائل میں اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 204میں توہین عدالت کا نوٹس لینے کا اختیار عدلیہ کو ہے ۔  چیف جسٹس انفرادی حیثیت سے توہین عدالت کا نوٹس نہیں لے سکتے ۔ طلال چوہدری توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ان کی گفتگو سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کی گئی۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ ان کے  پاس طلال چوہدری کی توہین آمیز تقاریر کا ریکارڈ موجود ہے۔ کامران مرتضی نے کہا کہ پیمرا نے توہین آمیز تقاریر نشر کرنے والے چینلز کو نوٹس جاری نہیں کیا ،  جس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ عدالت کا پیمرا کی کارروائی پر انحصار نہیں ہوتا ،پورے پاکستان اور دنیا میں طلال چوہدری کے الفاظ سنے گئے۔ کامران مرتضی نے کہا کہ معاف کرنے سے عدالت چھوٹی نہیں ہو جائے گی ، آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے  جس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ آرٹیکل انیس کا مطلب یہ نہیں کہ جو دل کرے بول دو  ، آزادی اظہار رائے اور گالیاں دینے میں فرق ہے۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ طلال چوہدری نے ججز کو بت کہا ، ہم بت کب سے ہو گئے ، کیا ججز کو نکال باہر کرنا توہین آمیز نہیں۔ کامران مرتضی نے کہا کہ جڑانوالہ جلسے میں طلال چوہدری کی تقریر سیاسی تھی ،  پراسیکوٹر عامر رحمان نے دلائل میں کہا کہ طلال چوہدری کے خلاف کیس دانیال سے زیادہ سنگین ہے ،دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔