Wednesday, November 30, 2022

طلال چودھری کی نااہلیت کےخلاف نظرثانی درخواست مسترد

طلال چودھری کی نااہلیت کےخلاف نظرثانی درخواست مسترد
 اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری کی نااہلیت کےخلاف نظرثانی درخواست مسترد کر دی ۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ طلال چودھری کے وکیل دلائل سے عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے لیگی رہنما طلال چودھری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عدالت برخواست ہونے تک کی سزا سنا دی تھی۔ عدالت نے توہین عدالت کے قانون 2003 اور آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت سزا سنائی تھی۔ عدالت کی جانب سے طلال چودھری کو ایک لاکھ روپے جرمانے کا بھی حکم سنایا گیا تھا ۔عدالت کے فیصلے کے مطابق طلال چودھری پانچ سال کیلئے الیکشن لڑنے کیلئے نااہل قرار دے دئیے گئے تھے۔ طلال چودھری کو انتخابات 2018 میں عوام پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں۔ ن لیگ کے رہنما دانیال عزیز اور نہال ہاشمی بھی توہین عدالت کیس میں نا اہل ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے طلال چودھری کی عدلیہ مخالف تقاریر کا نوٹس لیا تھا۔ کامران مرتضی نے دلائل میں اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ آرٹیکل 204 میں توہین عدالت کا نوٹس لینے کا اختیار عدلیہ کو ہے ۔ چیف جسٹس انفرادی حیثیت سے توہین عدالت کا نوٹس نہیں لے سکتے ۔ طلال چوہدری توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ان کی گفتگو سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کی گئی۔ جسٹس گلزار کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ طلال چوہدری نے اپنے الفاظ سے انکار نہیں کیا ،  انھیں بخوبی علم تھا ۔جسٹس گلزار نے کہا تھا کہ ان کے پاس طلال چوہدری کی توہین آمیز تقاریر کا ریکارڈ موجود ہے۔