Sunday, October 2, 2022

ضیا الدین اسپتال میں زیرعلاج دہشت گردوں کے نام سامنے آ گئے

ضیا الدین اسپتال میں زیرعلاج دہشت گردوں کے نام سامنے آ گئے
کراچی(92نیوز)سندھ رینجرز کے پراسیکیوٹر نے ڈاکٹر عاصم حسین کی سنسنی خیز انکشافات پر مبنی جے آئی ٹی رپورٹ انسداد دہشت گردی عدالت کے روبرو پیش کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عاصم نے اپنے اسپتالوں میں کالعدم تنظیموں کے ایسے دہشت گردوں کا رعایتی علاج معالجہ کیا  جن کے سرپر حکومت سندھ انعام مقرر کر رکھا تھا  کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کو جاری کردہ بلوں کی کاپیاں عدالت میں پیش کردی گئیں ۔ تفصیلات کےمطابق رینجرز کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے  ڈاکٹر عاصم حسین کی جے آئی ٹی  رپورٹ بھی عدالت میں پیش کردی  ملزم سے پانچ رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش کی ۔ رپورٹر کے مطابق ملزم نے جے آئی ٹی میں سیاسی جماعتوں ،عسکریت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کو ضیاء الدین اسپتال میں علاج معالجہ فراہم کرنے کا اعتراف کیا ۔ جے آئی ٹی کے مطابق ڈاکٹر عاصم کے اسپتال میں لیاری گینگ وار کے شیراز کامریڈ ، آصف نیازی ، ظفر بلوچ  زاہد لاڈلہ، عمر کچھی اور دیگر کا علاج پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل ، ثنیہ ناز اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی ہدایت پر کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ  ان دہشتگردوں کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر حکومت نے انعام مقرر کررکھا تھااور اسی دوران یہ ملزم ضیاء الدین اسپتال سے رعایتی پیسوں میں علاج معالجہ کرارہے تھے ۔ زیر علاج دہشتگردوں کے رعایتی علاج کے بل کے نقول اور ملزموں کے سر کی قیمت مقرر کرنے کا نوٹی فکیشن بھی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا گیا جے آئی ٹی کے مطابق ڈاکٹر عاصم نے 36 نجی کمپنیاں اپنے نام پر منتقل کرائیں جن کے ذریعے دو سو سات مرتبہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک رقم منتقل کی گئی ۔