Saturday, December 3, 2022

صائمہ تشدد کیس ، معصوم بچی کے جسم پر تشدد کے 12 نشانات پائے گئے

صائمہ تشدد کیس ، معصوم بچی کے جسم پر تشدد کے 12 نشانات پائے گئے
اسلام آباد(92نیوز)گھریلو ملازمہ تشددکیس میں بڑا بریک تھرو سامنے آگیا ہے ۔ظالم مالکوں نے  بچی کے جسم کوگرم چھری سے داغا ناخن مارے اور دانتوں سے کاٹا۔ جسم پر مارپیٹ کے دس سے بارہ نشانات ملے جبکہ پمز اسپتال کا میڈیکل بورڈ سچ سامنے لے آیا ہے متاثرہ صائمہ نےبھی اپنے پر ہونے والی ظلم کی داستان سنادی۔ تفصیلات کےمطابق گھریلو ملازمہ صائمہ پر اس کے مالکوں نے انسانیت سوز ظلم ڈھایا ہے اور یہ بات ثابت بھی ہوگئی ہے ۔ پہلے جسم گرم چھری سے داغا اور ناخنوں سے چھیلا پھردانتوں سے کاٹا، پمز کے 6رکنی میڈیکل بورڈ نے طبی معائنے کے بعد سب کچھ بتایا ، بورڈ ارکان کاکہناہے کہ بچی سے مختلف سوالات بھی پوچھے ہیں۔ چھ رکنی میڈیکل بورڈ نے صائمہ کا نفسیاتی معائنہ بھی کیا جلے ہوئے زخموں کی نوعیت دیکھی اور مختلف ٹیسٹ بھی کئے گئےوی سی پمز کہتے ہیں کہ بچی کی میڈیکل رپورٹ آئندہ چوبیس گھنٹے میں تیار کرلیں گے۔ میڈیکل بورڈ میں برن سرجن ،جنرل سرجن ، ماہر نفسیات ، گائنا کولوجسٹ اور فرانزک ماہرین کی ٹیم شامل تھی ،وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی اچانک ہسپتال آمد کے باعث میڈیکل بورڈ کو اپنا کام وقت سے پہلے ختم کرنا پڑا۔ متاثرہ بچی  نے اسسٹنٹ کمشنر بشریٰ اقبال کے روبرو بیان قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ مالکن الماس اس کا بیٹا اور بیٹی ملکر تشدد کرتے تھے۔ بیٹی دانتوں سے منہ پر کاٹتی تھی۔ پاؤں میں بیٹریاں بھی ڈالی جاتی تھیں ،نوکر بھی تشدد کرتاتھا، اکثر بھوکا پیاسا رکھا جاتا۔ ماں سے ملنے کی خواہش کرتی تو کہا جاتا اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ صائمہ نے انکشاف کیا کہ اس کےساتھ کام کرنے والی ملازمہ شہزادی کا بازو بھی مالکن نے توڑ دیا تھا۔