Thursday, October 6, 2022

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے، قوم کے بہادر سپوت سوار محمد حسین شہید کی چوالیس ویں برسی

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے، قوم کے بہادر سپوت سوار محمد حسین شہید کی چوالیس ویں برسی
اسلام آباد (نائنٹی ٹو نیوز) قوم کے بہادر سپوت سوار محمد حسین شہید کی آج چوالیس ویں برسی ہے۔ دس دسمبر انیس سو اکہتر میں پاک بھارت جنگ کے دوران جرات اور بہادری کی تاریخ رقم کرنے والے سوار محمد حسین شہید کی قوم آج بھی مقروض ہے۔ قوم کے ایک بہادر سپوت سوار محمد حسین شہید اٹھارہ نومبر انیس سو انچاس کو راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان میں پیدا ہوئے۔ سوار محمد حسین شہید تین ستمبر انیس سو چھیاسٹھ میں سترہ سال کی عمر میں پاک فوج میں بطور ڈرائیور شمولیت اختیار کی۔ دس دسمبر انیس سو اکہتر میں پاک بھارت جنگ میں سوار محمد حسین شہید شکرگڑھ کے محاذ پر گولیوں کی بوچھاڑ میں کئی دشمنوں کو ٹھکانے لگاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ سوار محمد حسین شہید کا جسم گولیوں سے چھلنی ہو چکا تھا لیکن جان جان آفرین کے سپرد کرنے سے پہلے وہ دشمن کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر چکے تھے۔ سورج کی کرنیں چھپنے سے پہلے دشمن مورچے چھوڑ کر بھاگ چکے تھے اور وہاں ترنگے کی جگہ سبز ہلالی پرچم سربلند تھا اور چاند کی تابناک کرنیں شہید کو سلامی پیش کرنے کے لئے دھیرے دھیرے نیچے اتر رہی تھیں۔ جرأت اور بہادری کے اس کارنامہ پر انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔