Sunday, September 25, 2022

شہریوں کیلئے اسلام آباد میں داخل ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا

شہریوں کیلئے اسلام آباد میں داخل ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا

اسلام آباد (92 نیوز) شہریوں کے لئے اسلام آباد میں داخل ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا۔ تحریک لبیک پاکستان کا دھرنا تو فیض آباد انٹرچینج پر ہے لیکن حکومت نے اس علاقے سے کئی کلومیٹر دور مرکزی شاہراہوں کو بھی بند رکھا ہے۔ انسانی حقوق کا پاٹ پڑھنے والی حکومت خود انسانی حقوق کی سب سے بڑی دشمن بن گئی ہے۔
اسلام آباد کی ایکسپریس وے بے تکی کا شکار ہو گئی ہے۔ ایکسپریس وے پر ڈھوک کالا خان سے لے کر سوہان اور پھر آئی ایٹ انٹرچینج تک کنٹینرز کے پہاڑ ہیں۔ جگہ جگہ کنٹینرز کی قطار، خاردار تاریں اور بیریئرز موجود ہیں۔ پیدل اورسوار سبھی راستوں کی تلاش میں ہیں۔
تحریک لبیک پاکستان کا مقصد تو واضح ہے لیکن جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے حکومت کس مقصد کو پروان چڑھا رہی ہے ؟؟ یہ وہ سوال ہے جو زبان زد عام ہے۔