Tuesday, October 4, 2022

شہبازشریف بھائی کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ پر بھی نہ پہنچ سکے

شہبازشریف بھائی کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ پر بھی نہ پہنچ سکے
لاہور (92 نیوز) بڑے بھائی کی محبت میں بلندبانگ دعوے کرنے والے شہبازشریف سست رفتار ریلی نکال کر نوازشریف سے ہاتھ کر گئے۔ نیب سے سزایافتہ نوازشریف کی گرفتاری اوراستقبال کے معاملے نے بڑے بڑوں کے پول بھی کھول دیئے۔ دعوؤں میں پیچھے نہ رہنے والے سابق وزیراعلیٰ ریلی  لے کرنوازشریف کے استقبال  میں پیچھے رہ گئے۔ ذرائع کے مطابق نوازشریف کے تین قریبی ساتھیوں کے کہنے کے باوجود شہباز شریف نے اپنی ریلی کی رفتار سست رکھی۔ ایئرپورٹ پر کارکنوں کے نہ پہنچنے کا سُن کرسابق وزیراعظم نوازشریف کے چہرے پر مردنی چھا گئی۔ ادھر ن لیگ کے  کئی اہم ترین رہنما جو پانچ سال تک وزارتوں پر رہے  وہ بھی مختلف حیلے بہانوں سے لاہور سے دور ہی رہے ۔ ایسے میں کہا جاسکتا ہے کہ  میاں تیرے جانثار مشکل وقت میں سب فرار ۔ نوازشریف کے بیانیے کے سب سے بڑی حامی سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کچھ کارکنوں کے ساتھ سیالکوٹ سے روانہ تو ضرور ہوئے لیکن لاہور نہ پہنچ سکے ، راستے میں ہی روکنے کی خبریں جاری کر کے جان چھڑالی گئی ۔ گوجرانوالہ سے شریف فیملی کے قریب سمجھے جانے والے خرم دستگیر نے بھی اسی طرح کی حکمت عملی اختیار کی  اور راستے میں ہی روکے جانے کی  خبر دے کر واپسی کی راہ لے لی۔ اب رخ کرتے ہیں فیصل آباد کا جہاں سے سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ پہلے تو اپنے ڈیرے پر کارکنوں کے جمع ہونے کا انتظار ہی کرتے رہے آخر کار ہارتھک کر چند درجن کارکنوں کولے کر شہر سے نکلے لیکن کینال روڈ پر ہی کارکنوں کو چھوڑ کر گھر واپس چلے گئے۔ طلال چودھری کو اندازہ تھا کہ کوئی کارکن لاہور جانے کو تیارنہیں اس لیے موصوف ایک دن پہلے ہی اکیلے لاہور پہنچ گئے اور ان کے حلقے سے صرف دو خالی بسیں میڈیا کو دکھانے کے لیے روانہ کی گئیں۔ میاں منان ساہیانوالہ تک ہی پہنچ پائے اور رانا افضل بھی قافلہ روکے جانے کی خبر دے کر واپس گھر چلے گئے ۔ لاہور کی ریلی میں یہاں شہبازشریف گاڑی سے ہی باہر نہ نکلے وہیں خواجہ سعد رفیق  سمیت لاہور کے کئی اہم رہنما بھی ریلی میں کم کم ہی دکھائی دیے۔