Sunday, January 29, 2023

شریف فیملی کیخلاف نیب ریفرنسز، سپریم کورٹ نے مدت 9 جون تک بڑھا دی

شریف فیملی کیخلاف نیب ریفرنسز، سپریم کورٹ نے مدت 9 جون تک بڑھا دی
اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے شریف فیملی کےخلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت ریفرنسز کی مدت میں 9 جون تک توسیع کر دی۔ عدالت عظمیٰ نے نو جون تک ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ شریف فیملی کو شفاف ٹرائل کا مکمل حق ملے۔ آرٹیکل 10 اے کے تحت تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔ وکیل نوازشریف خواجہ حارث نے کہا کہ ریفرنس نمبر 4 کی تکمیل کا وقت 12 جون تک مکمل ہو رہا ہے۔ ایک ماہ کا وقت میرے موکل کے لیے بہت کم ہے۔ جلدی میں کام نہیں ہونا چاہیے جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بہت سارے ہمارے بزرگوں نے رمضان میں جنگیں لڑیں۔ یقین دہانی کراتے ہیں شفاف ٹرائل کا حق متاثر نہیں ہونے دیں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ  کہیں نہیں جارہے۔ مزید وقت درکار ہوا تو فراہم کریں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیب نے ابھی تک ٹرائل مکمل کیوں نہیں کیا؟ ہم نے آپ کو مناسب وقت دیا تھا جس پر وکیل نیب نے کہا کہ ریفرنس نمبر تین مکمل ہو چکا ہے۔ ریفرنس نمبر تین میں استغاثہ کے 18 گواہان کے بیان قلمبند ہو چکے۔ جسٹس عظمت سعید نے وکیل نیب سے کہا کہ آپ ہماری مدد نہیں کر رہے ، جس زبان میں کہیں گے ہم آپ سے پوچھ لیں گے۔ ہمیں بیان کرنے میں اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے؟ نیب نوازشریف کا 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کی تاریخ دینے میں ناکام ہو گیا ہے ، آسان بات ہے کیوں نہیں کہ رہے جس پر وکیل نیب نے کہا کہ 10 مئی کو 342 کا بیان قلمبند ہوسکتا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ واجد ضیا نے کل بیان قلمبند کرانا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہمیں تنگ نہ کریں۔ آسان سوال پوچھ رہے ہیں واجد ضیا پر کتنے دن جرح ہوئی؟ یہ میاں بیوی کا جھگڑا نہیں جس میں ہم نے صلح کرانی ہے۔ وکیل نیب نے کہا کہ واجد ضیا پر 16 دن جرح ہوئی۔ خواجہ حارث نے شفاف انداز میں ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 3 ماہ کا وقت دینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے شریف فیملی کے خلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت ریفرنسز کی مدت میں 9 جون تک توسیع کر دی۔