Thursday, October 6, 2022

شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کیس کی سماعت 3 جنوری تک ملتوی

شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کیس کی سماعت 3 جنوری تک ملتوی

اسلام آباد ( 92 نیوز ) احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز کی سماعت تین جنوری تک ملتوی کر دی گئی ۔ نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن صفدر پیش ہوئے ۔ استغاثہ کے گواہ یاسر بشیر اور شکیل انجم کے بیان ریکارڈ کئے گئے ۔ عدالت نے مزید تین گواہان کو طلب کر لیا ۔ نواز شریف کی بینک اسٹیٹمنٹ اور مریم کے اکاؤنٹ کی تفصیلات پیش کردی گئیں ۔
شریف خاندان کے خلاف فلیگ شپ انوسٹمنٹ، ایوان فیلڈ پراپرٹیز اور العزیزیہ سٹیل ملز سے متعلق ریفرنسز کی سماعت ہوئی۔ نواز شریف احتساب عدالت میں دسویں بار پیش ہوئے ۔ مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر بھی عدالت پیش ہوئے ۔ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی ۔
نجی بینک کے برانچ منیجر یاسر شبیر نے نواز شریف کی 12 فروری 2010 سے 30 جون 2017 کی بینک سٹیٹمنٹ اور مریم نواز کے بینک اکاﺅنٹ کی تفصیل پیش کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کرایا کہ ہل میٹل کمپنی کے جدہ اکاﺅنٹ سے مریم نواز کے اکاونٹ میں 5 کروڑ 71 لاکھ منتقل ہوئے ۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے اکاونٹ میں کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔
دوسری طرف خواجہ حارث نے گواہ پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا بینک انٹریز آپ کے سامنے ہوئیں؟۔ کیا ان ٹرانزیکشنز سے نواز شریف کے اکاﺅنٹ کا تعلق ہے؟؟۔
اس پر گواہ بولا کہ جس پر اس کے دستخط ہیں وہ انٹری اس کے سامنے ہوئے۔ نواز شریف کا ان ٹرانزیکشنز سے کوئی تعلق نہیں۔
گواہ یاسر شبیر پر جرح مکمل ہونے کے بعد عدالت نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کو جانے کی اجازت دیدی۔
دوران سماعت کمرہ عدالت میں بجلی بھی چلی گئی۔ نواز شریف نے پچھلی نشست پر بیٹھے اپنے داماد کیپٹن(ر) صفدر کو اگلی نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔
صحافی کے اس سوال پر کہ آپ کے اور مریم نواز کے اکاﺅنٹ کی تفصیلات پیش ہو رہی ہیں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کس خبر کی تلاش میں ہیں ؟ ۔
اس پر مریم نواز بولیں کہ والد نے جو تحفے دیئے ان پر بحث ہو رہی ہے۔ کیا جو تحفے آپ کو آپ کے والد نے دیئے ان پرآپ سے پوچھا گیا؟۔