Friday, January 27, 2023

شاہین ایئر کی پرواز 216 مسافروں کو لے کر کراچی لینڈ کر گئی

شاہین ایئر کی پرواز 216 مسافروں کو لے کر کراچی لینڈ کر گئی
کراچی (92 نیوز) مدینہ ایئرپورٹ پر پھنسے حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ شاہین ایئر کی پرواز 216 مسافروں کو کو لے کر کراچی لینڈ کر گئی ۔ سول ایوی ایشن کی جانب سے ایئرلائنز کو لائسنس منسوخی کے بعد پروازوں کی خصوصی اجازت دی گئی۔ شاہین ایئرلئن کا ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ لائسنس تیس اگست کو ختم ہو گیا تھا جس کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اجازت نامہ دینے سے انکار کیا تھا  لیکن میڈیا پر عازمین حج کی واپسی سے متعلق خبر نشر ہوئی تو اجازت نامہ دیا گیا۔ قبل ازیں لاہور میں پہلی دو پروازیں 549 حجاج کو لے کر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں جہاں پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے ان کا استقبال کیا گیا۔ نجی ایئرلائن کی پرواز چار سو اکہتر بھی دو سو بیس حاجیوں کو لیکر لاہور پہنچی۔ فریضہ حج کی ادائیگی سے وطن واپسی پر حجاج کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اتنی بڑی سعادت سے نوازا، حاجیوں کی جانب سے انتظامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ پی آئی اے کی خصوصی اور شیڈول پروازوں سےاڑسٹھ ہزار سے زائد حجاج کو اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد پہنچایا جائے گا۔ حج آپریشن کا اختتام پچیس ستمبر کو ہو گا۔ پاکستان حج مشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ساجد یوسفانی کے مطابق سعودی عرب میں موجود تمام حجاج کو گروپس کی شکل میں ایئر پورٹ روانہ کیا جائے گا۔ عازمین حج میں پاکستان کے ایک لاکھ چوراسی ہزارعازمین شامل ہیں ۔ رواں سال دنیا بھرسے بیس لاکھ عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی جنہیں مکہ مکرمہ سے بسوں کے ذریعے منیٰ لایا گیا۔منی میں حد نگاہ خیموں کا شہر آباد ہو گیا جو پانچ دن تک جاری رہا۔ عازمین اتوار کو سارا دن قیام کے بعد پیر کی صبح حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کے لئے میدان عرفات پہنچے۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق امسال 2 لاکھ سے زائد داخلی عازمین کو فریضہ حج کی ادائیگی کےلئے پرمٹ جاری کئے گئے ۔ جدہ کے مختلف مقامات سے داخلی عازمین کی روانگی کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا ۔ داخلی عازمین کوحج خدمات فراہم کرنے والے بعض اداروں نے اپنے عازمین کو 7 ذوالحجہ کی شام ہی مکہ مکرمہ پہنچا دیا تھا جہاں سے وہ طواف القدوم کے بعد رات گئے منی روانہ ہوئے۔ مناسک حج  کیلئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ۔ دس ہزار فوجی  اور تین ہزار پولیس اہلکار حفاظت پر مامور رہے جبکہ رائل فورس کے دس ہیلی کاپٹر اہم مقامات پر  فضائی نگرانی کرتے رہے ۔