Thursday, September 29, 2022

سینیٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا معاملہ لٹک گیا

سینیٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا معاملہ لٹک گیا

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سینیٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا معاملہ ایک بار پھرلٹک گیا ۔ بل کی منظوری کیلئے 67 ارکان کی حاضری ضروری تھی جبکہ ایوان میں 25 ارکان موجود تھے۔ ایوان میں فیض آباد دھرنا کی بازگشت بھی سنائی دی۔ سینیٹر حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ دین کے نام پرگالی دینا کسی طور بھی درست عمل نہیں۔
سینٹ کا اجلاس چیئرمین میاں رضا ربانی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا معاملہ ایک مرتبہ پھر موخر کردیا گیا۔ اس سے قبل جمعہ کے روز بھی آئینی ترمیم کا معاملہ موخر کیا گیا تھا ۔ بل کی منظوری کیلئے ایوان میں 67 اراکین کا ہونا ضروری تھا لیکن ایوان میں 25 اراکین تھے۔
قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے کہا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم کے لئے ایوان میں مطلوبہ تعداد موجود نہیں ۔ متعلقہ آئینی ترمیم اور ایجنڈا دور روز کے لئے موخر کردیں ۔ چیئرمین سینٹ نے قائد ایوان کی تجویز مان لی ۔ حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم بدھ کے روز ہوگی۔
ایوان میں فیض آباد تحریک لبیک دھرنے کی گونج بھی سنائی دی۔ سینیٹر حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کی آڑ میں عوام کو تکلیف دینا قانونی اور دینی لحاظ سے درست نہیں۔
ملک میں جعلی ادویات کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ پر سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے تحریک پیش کی۔
سینٹر رحمان ملک نے مطالبہ کیا کہ جعلی ادویات بنانے والوں کو سزائے موت کی سزا ہونی چاہئے۔ سینٹ میں جادو ٹونہ کی ممانعت سے متعلق مجموعہ تعزیرات پاکستان میں ترمیم کا بل بھی منظورکرلیا گیا۔