Saturday, December 3, 2022

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے، اٹارنی جنرل انور منصور خان

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے، اٹارنی جنرل انور منصور خان
اسلام آباد (92 نیوز) اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اٹارنی جنرل انور منصور خان کا کہنا تھا عدالت میں دائر درخواست پر کارروائی شروع ہوئی۔ عدالت میں 3 روز مختلف قوانین پر بحث ہوئی۔ ایسی چیزیں سامنے آئیں جن پر پہلے کسی عدالت نے فیصلہ نہیں دیا تھا۔ سادہ اکثریت سے قانون منظور ہو جائے تو مسئلہ نہیں ہو گا۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا آرمی ایکٹ قیام پاکستان سے پہلے کا ہے۔ یہ ایکٹ چیلنج ہوا اور نہ کبھی کسی عدالت میں کوئی ایسی بات ہوئی ، نہ کبھی کسی کو یہ احساس ہوا کہ اس نے کوئی غلط کام کیا۔ عدالت نے جب اس پر نوٹس لیا تو اس پر بہت غور کیا کہ پہلےکے قانون میں آرمی چیف کی تعیناتی کا ذکر نہیں ہے۔ قانون میں ذکر نہیں کہ آرمی چیف کی  تعیناتی اورتوسیع کس طرح ہو گی۔ عدالت میں اس پر بحث ہوئی اوربہت سی نئی چیزیں سامنے آئیں جو اس سے پہلے دیکھی نہیں گئی تھیں اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا آخری نوٹیفکیشن عدالت نے منظور کیا۔ عدالت نے ایک چیز اس میں لکھی کہ آپ قانون بنائیں۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع کا ذکر کریں۔ ادھر فروغ نسیم نے کہا چیف جسٹس نے پاکستان کو آگے رکھتے ہوئے فیصلہ دیا۔ ہم چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ عدالت نے ہر مرحلے پر ہماری رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا ججز اور وکلا کے درمیان بحث سے یہ اخذ نہیں کرنا چاہئے نتیجہ کیا آئے گا۔ معاون خصوصی ‏برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس کیس کو کسی شخصیت کیساتھ ‏نہ جوڑا جائے۔ عدالت نے قانونی سقم دور کرنے کیلئے کیس سنا۔ آج جمہوریت کی ‏جیت ہوئی ہے۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ تاریخی ‏ہے۔فیصلہ سے واضح ہو گیا 243 کا اختیار وزیر اعظم کا ہے۔جن حالات سے ‏ملک گزر رہا ہے  ہمیں اس مسئلہ کو ایسی ہی ہینڈل کرنا چاہیے جیسے عدالت ‏عظمیٰ نے کیا۔